عدالت نے میر رضا علی کی قبر کشائی کے لیے تشکیل دیے گئے اصل میڈیکل بورڈ کو بحال کر دیا ہے، جس سے نئی کمیٹی کے قیام کا گزشتہ فیصلہ کالعدم ہو گیا ہے۔ یہ پیش رفت مقتول کے لواحقین اور حکام کے درمیان کئی ہفتوں کی قانونی کشمکش کے بعد سامنے آئی ہے۔
عدالتی حکم کے مطابق، وہی طبی ماہرین اب قبر کشائی کے عمل کی نگرانی کریں گے جنہیں سب سے پہلے اس کام کے لیے مقرر کیا گیا تھا۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی محکمہ صحت کی جانب سے حال ہی میں تشکیل دی گئی نئی کمیٹی غیر موثر ہو گئی ہے، جس پر خاندان نے خدشات کا اظہار کیا تھا کہ یہ عمل کو التواء میں ڈالنے کی کوشش ہے۔
ورثاء کے لیے یہ فیصلہ ایک اہم کامیابی ہے۔ ان کا موقف رہا ہے کہ اصل میڈیکل بورڈ ہی وہ حقائق سامنے لا سکتا ہے جو میر رضا علی کی موت کی اصل وجہ واضح کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ عدالت کی جانب سے پرانے پینل کی بحالی کو شفافیت کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے کیس میں جسے عوامی سطح پر انتہائی حساس سمجھا جاتا ہے۔
قبر کشائی کا عمل انتظامی رکاوٹوں اور قانونی الجھنوں کے باعث کئی بار ملتوی ہو چکا ہے، تاہم اب اس کے آئندہ ہفتے ہونے کا امکان ہے۔ محکمہ صحت کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اصل بورڈ کے ارکان کی دستیابی یقینی بنائے اور قبرستان میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات مکمل کرے۔
سرکاری وکلاء، جنہوں نے ابتدائی طور پر نئی کمیٹی کے قیام کی حمایت کی تھی، نے عدالت کو یقین دلایا ہے کہ وہ تازہ ترین حکم پر عمل درآمد کریں گے۔ تاہم، انہوں نے اس بات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا کہ اس تبدیلی سے پوسٹ مارٹم رپورٹ کے نتائج یا وقت پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔
کیس کی نوعیت کے پیش نظر، قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اصل میڈیکل بورڈ کی واپسی سے طریقہ کار پر اٹھنے والے سوالات میں کمی آئے گی۔ اصل امتحان اب قبر کشائی کے بعد شروع ہوگا، جہاں طبی ماہرین کو طویل عرصے بعد باقیات سے شواہد اکٹھے کرنے کے تکنیکی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔
عدالت نے بورڈ کو قبر کشائی کے عمل کے بعد اپنی رپورٹ جمع کرانے کے لیے سخت ٹائم لائن دی ہے۔ اب جبکہ میڈیکل ٹیم کا معاملہ طے پا گیا ہے، تمام تر توجہ قبرستان پر مرکوز ہے جہاں تفتیشی ٹیمیں اس اہم اور حساس آپریشن کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔
