ریاض — سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے ایک نئے سہ فریقی دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جس سے مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے درمیان فوجی اور تزویراتی تعاون کا ایک نیا باب کھل گیا ہے۔ منگل کی شب ریاض میں طے پانے والے اس معاہدے کا بنیادی مقصد دفاعی صنعتوں کا انضمام، انٹیلی جنس کا تبادلہ اور مشترکہ فوجی مشقوں کو مزید مربوط بنانا ہے۔
یہ معاہدہ محض سفارتی بیان بازی سے آگے بڑھ کر دفاعی ٹیکنالوجی کی منتقلی اور ڈرون طیاروں کی مشترکہ تیاری پر مرکوز ہے۔ پاکستان کے لیے یہ معاہدہ اپنی دفاعی تنصیبات کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا ایک اہم ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ ترکی کے لیے یہ اسلامی دنیا میں اسلحہ برآمد کرنے والے ایک بڑے ملک کے طور پر اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کا موقع ہے۔ سعودی عرب اس اقدام کے ذریعے مغربی ممالک پر انحصار کم کر کے اپنے دفاعی شراکت داروں کے دائرہ کار کو وسیع کر رہا ہے۔
اسلام آباد میں موجود ایک سینئر دفاعی تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ "یہ صرف کاغذوں تک محدود معاہدہ نہیں ہے۔ ترکی کی شمولیت کا مطلب ہے کہ پاکستان کو نیٹو معیار کی ٹیکنالوجی تک رسائی ملے گی، جبکہ سعودی عرب اس منصوبے کو مالی اور تزویراتی وزن فراہم کرے گا تاکہ اسے تجارتی طور پر قابل عمل بنایا جا سکے۔”
علاقائی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس تعاون کا مرکزی نقطہ ڈرون ٹیکنالوجی ہے۔ ترکی کے ‘بائراکتار’ پروگرام نے جدید جنگی حکمت عملیوں کو تبدیل کر دیا ہے، اور سعودی عرب اور پاکستان دونوں ہی اس ٹیکنالوجی کو مقامی سطح پر تیار کرنے میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ وسائل کو یکجا کر کے یہ تینوں ممالک ان طویل اور پیچیدہ مراحل سے بچنا چاہتے ہیں جو اکثر مغربی سپلائرز کی شرائط کی وجہ سے درپیش ہوتے ہیں۔
اس معاہدے کے تزویراتی اثرات بھی نمایاں ہیں۔ دفاعی تعلقات کو مضبوط بنا کر یہ تینوں ممالک ایک ایسے خود مختار بلاک کے طور پر ابھر رہے ہیں جو واشنگٹن یا برسلز کی ہدایات کے منتظر رہے بغیر علاقائی غیر یقینی صورتحال پر ردعمل دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
تاہم، اس اتحاد کو کچھ بڑی رکاوٹوں کا بھی سامنا ہے۔ تین مختلف فوجی نظریات اور سپلائی چینز کو یکجا کرنا ایک بڑی لاجسٹک چیلنج ہے۔ اس کے علاوہ، ان تینوں ممالک کو اپنے موجودہ بین الاقوامی وعدوں، بالخصوص سعودی عرب کے امریکہ کے ساتھ سیکیورٹی معاہدوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہوگا۔
پہلی مشترکہ فوجی مشقیں آئندہ سال کے اوائل میں شیڈول کی گئی ہیں، جس کے لیے مقامات کا تعین کیا جا رہا ہے۔ یہ اتحاد علاقائی طاقت کے توازن کو کس حد تک تبدیل کرے گا، اس کا دارومدار اس بات پر ہے کہ یہ تینوں ممالک کتنی تیزی سے دستخطی تقریبات سے نکل کر عملی دفاعی تعاون کو میدانِ عمل میں لاتے ہیں۔
