شدت اختیار کرتی جنگلات کی آگ صرف درختوں کو ہی نہیں، بلکہ زمین کی زرخیزی اور حیاتیاتی یادداشت کو بھی خاکستر کر رہی ہے۔ ماہرینِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں لگنے والی آگ اتنی شدید ہے کہ متاثرہ علاقوں کو اپنی اصل حالت میں واپس آنے میں کئی سو سال لگ سکتے ہیں۔
ماہرِ جنگلات ڈاکٹر ایلینا وینس کے مطابق، "یہ محض چند دہائیوں کی بات نہیں ہے۔ جب آگ مٹی کی بالائی تہہ اور اس میں موجود بیجوں کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے، تو ایکو سسٹم اپنی ‘بائیولوجیکل میموری’ کھو دیتا ہے۔ اب ہم دو سے تین سو سال پر محیط بحالی کے عمل کی بات کر رہے ہیں، اور یہ بھی تب ممکن ہے اگر موسمیاتی حالات سازگار رہیں۔”
مسئلہ آگ کی شدت میں چھپا ہے۔ ماضی میں جنگلات میں جھاڑیوں کی صفائی کے روایتی طریقوں کو نظر انداز کیا گیا، جس سے خشک لکڑی اور جھاڑیوں کا ڈھیر لگ گیا۔ اب جب آگ بھڑکتی ہے تو اس کی تپش مٹی کو ‘ہائیڈروفوبک’ (پانی کو جذب نہ کرنے والی تہہ) میں بدل دیتی ہے۔ بارش کا پانی زمین میں جذب ہونے کے بجائے اوپر سے بہہ جاتا ہے، جس سے زرخیز مٹی اور ضروری جراثیم بھی ضائع ہو جاتے ہیں۔
ان جراثیم کے بغیر مقامی درختوں کی افزائش ناممکن ہو جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں جنگل کی جگہ تیزی سے پھیلنے والی جھاڑیاں اور جڑی بوٹیاں لے لیتی ہیں، جو دوبارہ آگ لگنے کا سبب بنتی ہیں۔ یہ ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے جو جنگل کو کبھی پنپنے نہیں دیتا۔
امریکہ کے مغربی حصوں اور بحیرہ روم کے ساحلی علاقوں میں یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ جہاں کبھی گھنے کونِفر جنگلات ہوا کرتے تھے، وہاں اب صرف بنجر اور جھاڑی دار زمین بچی ہے۔ یہ جنگلات کاربن جذب کرنے کا قدرتی ذریعہ تھے، جن کے ختم ہونے سے مقامی درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ہائیڈرولوجسٹ مارکس تھورن نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، "ہم نے ہمیشہ یہ فرض کر لیا تھا کہ جنگلات خود کو بحال کر لیں گے۔ لیکن ہر نظام کی ایک حد ہوتی ہے۔ ہم نے ان جنگلات کو ان کے ٹوٹنے کے مقام سے آگے دھکیل دیا ہے۔ اب ہم ان کے ایک ایسے روپ میں ڈھلنے کا مشاہدہ کر رہے ہیں جو پہلے سے کہیں زیادہ غیر پیداواری ہے۔”
حکومتی ادارے مصنوعی شجرکاری اور مٹی کو دوبارہ زرخیز بنانے کے تجربات کر رہے ہیں، لیکن یہ عمل انتہائی مہنگا ہے اور لاکھوں ایکڑ رقبے پر پھیلی تباہی کے مقابلے میں بہت محدود ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ان علاقوں میں وقت کی گھڑی تھم نہیں گئی، بلکہ پلٹ گئی ہے۔ صدیوں پرانے وہ جنگلات، جنہوں نے زمین کے درجہ حرارت اور پانی کے ذخائر کو متوازن رکھا تھا، اب تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔ ان کی جگہ اب ایک گرم، خشک اور غیر مستحکم زمین لے رہی ہے جس کی بحالی محض انسانوں کے بس کی بات نہیں رہی۔
