پاکستان بھر میں بجلی کے نرخوں میں ایک بار پھر بھاری اضافہ کر دیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے بنیادی ٹیرف میں اضافے کے فیصلے کے بعد ملک بھر کے صارفین کے لیے بجلی کے بلوں میں ہوشربا اضافہ ہو گیا ہے، جس کی زد کراچی سے لے کر خیبر تک ہر گھر اور کاروباری طبقہ پر پڑ رہی ہے۔
عام صارف کے لیے اس اضافے کا مطلب ماہانہ بجٹ کا مزید سکڑ جانا ہے۔ مہنگائی کی موجودہ لہر میں پہلے ہی پسے ہوئے شہریوں کے لیے فی یونٹ قیمت میں کئی روپے کا اضافہ کسی بڑے دھچکے سے کم نہیں۔ کراچی میں، جہاں کے-الیکٹرک کے صارفین پہلے ہی طویل لوڈشیڈنگ اور بلند قیمتوں کی شکایت کرتے رہے ہیں، یہ نیا اضافہ ان کے لیے معاشی بوجھ کو ناقابلِ برداشت بنانے کے لیے کافی ہے۔
حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ ناگزیر تھا۔ پاور ڈویژن کے حکام کے مطابق، بین الاقوامی مالیاتی ادارے کے ساتھ طے پانے والے معاہدوں اور بجلی کے شعبے میں گردشی قرضوں کے بڑھتے ہوئے حجم کو روکنے کے لیے قیمتوں میں یہ ردوبدل ضروری تھا۔ ان کا موقف ہے کہ اگر یہ اقدام نہ اٹھایا جاتا تو بجلی کے نظام کو فعال رکھنا ناممکن ہو جاتا۔
دوسری جانب معاشی ماہرین اس حکومتی بیانیے سے اختلاف رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بجلی کے شعبے کی انتظامی نااہلی، ترسیلی نظام کی خرابیوں اور چوری کا بوجھ ہمیشہ عام صارف پر ڈالا جاتا ہے۔
اسلام آباد میں موجود ایک توانائی ماہر نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "ہم ان خرابیوں کی قیمت ادا کر رہے ہیں جو تقسیم کار کمپنیوں کی نااہلی کا نتیجہ ہیں۔ جب تک نظام میں موجود نقائص دور نہیں کیے جاتے، نرخوں میں اضافہ اس مسئلے کا حل نہیں ہو سکتا۔”
اس اضافے کا براہِ راست اثر چھوٹے کاروباروں پر پڑ رہا ہے۔ دکاندار اور چھوٹی صنعتیں، جو پہلے ہی بلند شرح سود اور گرتی ہوئی طلب سے نبردآزما ہیں، اب یہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہیں کہ اس بوجھ کو خود برداشت کریں یا اشیاء کی قیمتیں بڑھا کر صارفین پر منتقل کریں۔ کراچی کے صنعتی مراکز میں مالکان نے تنبیہ کی ہے کہ نئے نرخوں کے بعد کئی یونٹس بند ہو سکتے ہیں، جس سے ہزاروں دیہاڑی دار مزدوروں کا روزگار خطرے میں پڑ جائے گا۔
حکومت کا دعویٰ ہے کہ کم بجلی استعمال کرنے والے ‘پروٹیکٹڈ’ صارفین کو اس اضافے سے بچایا گیا ہے، تاہم درمیانے طبقے کے لیے یہ ریلیف نہ ہونے کے برابر ہے۔
جیسے جیسے نئے بل صارفین تک پہنچ رہے ہیں، عوامی غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔ مختلف شہروں میں صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں اسے "غیر منصفانہ” قرار دے کر احتجاج کی دھمکیاں دے رہی ہیں۔ سروس کے معیار میں بہتری لائے بغیر قیمتوں میں اس اضافے نے حکومت کے لیے عوامی حمایت برقرار رکھنے کا چیلنج مزید بڑھا دیا ہے۔
