اسماء مشتاق کی تلاش کے لیے ریسکیو ٹیم منگل کی صبح اس مقام پر پہنچ گئی جہاں ان کے آخری بار دیکھے جانے کی اطلاع تھی۔ کئی روز کی بے یقینی کے بعد اب عملی کارروائی کا آغاز ہو چکا ہے۔
اسماء مشتاق گزشتہ ہفتے ایک مہم جوئی کے دوران لاپتہ ہو گئی تھیں۔ پہاڑی سلسلے میں موسم کی شدید خرابی اور اچانک طوفان کے باعث ان کا رابطہ اپنے ساتھیوں سے منقطع ہو گیا تھا۔ ریسکیو ٹیموں نے موسمی حالات میں بہتری کا انتظار کیا اور جیسے ہی پہاڑ کے اوپری حصے تک رسائی ممکن ہوئی، ٹیم نے پیش قدمی شروع کر دی۔
مشن کو شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ پہاڑ کی بلندی پر موسم کسی بھی وقت کروٹ بدل سکتا ہے، اور محکمہ موسمیات نے بدھ کی شام سے مزید برفباری اور تیز ہواؤں کی پیش گوئی کر رکھی ہے۔ ریسکیو میں شامل ایک ماہر کوہ پیما نے بتایا کہ "یہاں کا جغرافیہ انتہائی کٹھن ہے، ہمارے پاس وقت بہت کم ہے اور ہر قدم احتیاط کا متقاضی ہے۔”
اسماء مشتاق اس سے قبل بھی قراقرم رینج کی کئی چوٹیوں کو سر کر چکی تھیں۔ ان کی گمشدگی نے مقامی کوہ پیمائی کے حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ یہ واقعہ ایک بار پھر شمالی علاقہ جات میں انفرادی کوہ پیمائی کے دوران حفاظتی اقدامات پر سوالات اٹھا رہا ہے۔ سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے مقابلے میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے درکار وسائل ابھی بھی محدود ہیں۔
ریسکیو ٹیم اس وقت جائے وقوعہ پر بنیادی ڈھانچہ قائم کرنے میں مصروف ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جیسے ہی ٹیم وہاں مستحکم ہوگی، صورتحال کے بارے میں حتمی معلومات فراہم کی جائیں گی۔ فی الحال پہاڑ کی خاموشی برقرار ہے اور پوری قوم کی نظریں ریسکیو ٹیم کی جانب سے ملنے والے اشاروں پر لگی ہوئی ہیں۔
