ایمسٹرڈیم: نیدرلینڈز کے ایک اسپتال میں ایک شخص ویسٹ نائل وائرس سے متاثر ہونے کے بعد جاں بحق ہوگیا ہے، ملک کے صحتِ عامہ کے ادارے آر آئی وی ایم نے بدھ کو بتایا۔
آر آئی وی ایم نے گزشتہ ہفتے نیدرلینڈز میں 2020 کے بعد پہلی مقامی طور پر منتقل ہونے والی ویسٹ نائل وائرس کی بیماری کی تصدیق کی تھی۔ ادارے کے مطابق اب ملک کے اندر ہی وائرس سے متاثر ہونے والے ممکنہ مریضوں کی تعداد بڑھ کر تین ہوگئی ہے۔
فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ جاں بحق ہونے والا شخص پہلے رپورٹ کیے گئے مریضوں میں شامل تھا یا نہیں۔ آر آئی وی ایم نے متاثرہ شخص کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
ویسٹ نائل وائرس زیادہ تر مچھر کے کاٹنے سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق وائرس سے متاثر ہونے والے تقریباً ہر 150 افراد میں سے ایک میں بیماری کی شدید اور جان لیوا شکل پیدا ہوسکتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت مچھروں کو زیادہ عرصے تک فعال رہنے اور وسیع علاقوں میں پھیلنے کے لیے موزوں ماحول فراہم کررہا ہے، جس کے باعث یورپ میں ویسٹ نائل وائرس کے کیسز میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔
رواں موسم گرما میں یونان اور اٹلی سمیت بعض یورپی ممالک میں بھی وائرس کے کیسز میں اضافہ رپورٹ ہوا ہے۔
تاہم آر آئی وی ایم کے مطابق نیدرلینڈز میں مقامی طور پر ویسٹ نائل وائرس سے متاثر ہونے کا امکان اب بھی ”بہت کم“ ہے۔
