ہالینڈ کے انسدادِ منشیات کے ادارے ‘ٹرِمبوس انسٹی ٹیوٹ’ نے مارکیٹ میں موجود ایکسٹیسی گولیوں کے ایک نئے بیچ پر قومی ‘ریڈ الرٹ’ جاری کر دیا ہے۔ ان گولیوں کی خاص بات یہ ہے کہ انہیں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شکل میں ڈھالا گیا ہے، اور ان میں موجود نشہ آور مواد کی مقدار انسانی جان کے لیے انتہائی خطرناک حد تک زیادہ ہے۔
لیبارٹری ٹیسٹ کے مطابق، ہر گولی میں تقریباً 200 ملی گرام موجود ہے۔ ماہرینِ صحت کے نزدیک ایک عام بالغ انسان کے لیے 80 سے 100 ملی گرام کی مقدار ایک ‘محفوظ’ خوراک سمجھی جاتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ گولیاں معمول سے دوگنا زیادہ طاقتور ہیں، جو جسمانی درجہ حرارت میں خطرناک حد تک اضافے، دورے پڑنے، اور دل کی دھڑکن رک جانے جیسی مہلک پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہیں۔
یہ نارنجی رنگ کی گولیاں، جن کے ایک رخ پر ٹرمپ کا چہرہ اور دوسرے پر ان کا نام کندہ ہے، ڈچ نائٹ لائف اور کلبنگ کے مقامات پر دیکھی گئی ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ کا یہ الرٹ اس وقت جاری کیا جاتا ہے جب مارکیٹ میں ایسی منشیات پکڑی جائیں جن کا استعمال فوری طور پر جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
ادارے کے ترجمان نے کہا کہ "ان گولیوں میں کی مقدار غیر معمولی طور پر زیادہ ہے۔ اکثر صارفین اس کی شدت کا اندازہ نہیں لگا پاتے، بالخصوص جب اسے شراب یا کلبوں کے پرشور ماحول میں استعمال کیا جائے جہاں جسم پہلے ہی شدید دباؤ میں ہوتا ہے۔”
سیاسی شخصیات کی شکل میں منشیات کی تیاری کوئی نئی بات نہیں؛ یورپی مارکیٹ میں ماضی میں بھی ایسے تجربات کیے گئے ہیں جن کا مقصد محض ‘میم کلچر’ یا تجارتی اشتہاری حربوں کے ذریعے نوجوانوں کو متوجہ کرنا ہوتا ہے۔ تاہم، قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ یہ برانڈنگ محض ایک دکھاوا ہے اور اس کا تعلق ان غیر قانونی لیبز کے غیر معیاری پیداواری عمل سے ہے، جس میں کیمیائی توازن کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا۔
ڈچ حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی کے پاس یہ گولیاں موجود ہیں تو انہیں فوری طور پر کیمیائی فضلہ تلف کرنے والے مراکز میں جمع کرایا جائے۔ حکام کا مزید کہنا تھا کہ سڑکوں پر بکنے والی کسی بھی گولی کو ‘محفوظ’ نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ خریدار کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس میں کون سے کیمیکلز اور بائنڈنگ ایجنٹس استعمال ہوئے ہیں۔
اگر کوئی شخص ان گولیوں کے استعمال کے بعد شدید بے چینی، دل کی تیز دھڑکن، یا ذہنی الجھن کا شکار ہو، تو اسے فوری طبی امداد کے لیے ہسپتال پہنچنا چاہیے۔ یورپ میں جاری فیسٹیول سیزن کے پیشِ نظر حکام کو خدشہ ہے کہ یہ گولیاں مزید علاقوں میں پھیل سکتی ہیں، اس لیے ‘ریڈ الرٹ’ تاحکمِ ثانی برقرار رہے گا۔
