کراچی — شہر کے ایک پوش علاقے میں ایک بااثر خاتون کی جانب سے اپنے پڑوسیوں پر تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، جس میں پولیس اہلکاروں کو نہ صرف خاموش کھڑے بلکہ مبینہ طور پر خاتون کی حمایت کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
منگل کی رات سامنے آنے والی اس ویڈیو میں خاتون کو اپنے پڑوسیوں پر ہاتھ اٹھاتے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ وردی میں ملبوس پولیس اہلکار موقع پر موجود ہونے کے باوجود کسی قسم کی مداخلت نہیں کر رہے۔ یہ مناظر کراچی میں طاقتور افراد کے ہاتھوں قانون کی بے بسی کی ایک اور المناک تصویر پیش کر رہے ہیں۔
مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ایک دیرینہ جائیداد کے تنازع کا نتیجہ ہے۔ متاثرین کے مطابق، خاتون اکثر اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ہراساں کرتی ہیں، اور پولیس کی موجودگی قانون نافذ کرنے کے بجائے خاتون کے ذاتی محافظوں جیسا تاثر دیتی ہے۔
ویڈیو وائرل ہونے کے باوجود کراچی پولیس کے اعلیٰ حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔ نہ ہی ان اہلکاروں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہے جو ویڈیو میں تشدد ہوتے دیکھ کر بھی لاتعلق بنے رہے۔ اس خاموشی نے عوام میں شدید غم و غصہ پیدا کر دیا ہے اور سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا قانون صرف غریبوں کے لیے ہے؟
علاقے کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ پولیس کا یہ رویہ شہر میں مروجہ دوہرے نظامِ انصاف کی عکاسی کرتا ہے۔ جہاں عام شہری معمولی جھگڑے پر تھانے کی خاک چھانتے ہیں، وہیں بااثر افراد کھلے عام تشدد کے باوجود قانون کی گرفت سے باہر رہتے ہیں۔
ماہرینِ قانون کے مطابق اگر متاثرین کی جانب سے باقاعدہ شکایت درج کرائی جاتی ہے تو یہ ویڈیو ٹھوس ثبوت کے طور پر کام کر سکتی ہے، بشرطیکہ تفتیش مقامی سیاسی دباؤ سے آزاد ہو۔ بدھ کی صبح تک اس واقعے میں کسی قسم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی اور متاثرہ خاندان مزید انتقامی کارروائی کے خوف میں مبتلا ہے۔
پولیس حکام کی جانب سے اس واقعے پر چپ سادھ لینا ایک پرانی روایت کی یاد تازہ کرتا ہے: سوشل میڈیا کا طوفان گزرنے کا انتظار کرنا اور پھر معاملے کو دبا دینا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا عوامی دباؤ پولیس کو کسی سنجیدہ انکوائری پر مجبور کرے گا یا یہ واقعہ بھی دیگر مقدمات کی طرح وقت کی گرد میں کھو جائے گا۔
