سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے سہولت اکاؤنٹ کھولنے کا دورانیہ کم کر کے ایک دن کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد چھوٹے سرمایہ کاروں کو اسٹاک مارکیٹ تک آسان رسائی فراہم کرنا اور ملک میں سرمایہ کاری کے کلچر کو فروغ دینا ہے۔
ماضی میں ‘نو یور کسٹمر’ کے طویل اور پیچیدہ مراحل کے باعث عام شہریوں کو اکاؤنٹ کھلوانے میں کئی دن لگ جاتے تھے۔ اب ایس ای سی پی نے آن بورڈنگ کے عمل کو ڈیجیٹل اور خودکار بنا دیا ہے۔ اب درخواست دہندہ کی شناخت کی تصدیق نادرا کے ڈیٹا بیس سے فوری طور پر ہو سکے گی، جس سے کاغذی کارروائی کا بوجھ ختم ہوگا۔
یہ فیصلہ خاص طور پر ان افراد کے لیے ہے جن کے پاس دستاویزات محدود ہیں، جیسے کہ طلباء، گھریلو خواتین اور چھوٹے بچت کرنے والے افراد۔ اب تک اسٹاک مارکیٹ کا دائرہ کار محدود رہا ہے، لیکن اس سہولت سے امید کی جا رہی ہے کہ مارکیٹ میں نئے سرمایہ کاروں کی آمد بڑھے گی، جس سے مارکیٹ میں لیکویڈیٹی میں بھی بہتری آئے گی۔
تاہم، ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اکاؤنٹ کھولنے میں آسانی کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاروں کی آگاہی بھی ضروری ہے۔ بروکرز کو اب ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اکاؤنٹ کھولتے وقت سرمایہ کار کو مارکیٹ کے خطرات سے بھی آگاہ کریں تاکہ کم آمدنی والے طبقے کی جمع پونجی غیر محفوظ نہ ہو۔
یہ نئی پالیسی فوری طور پر تمام بروکریج ہاؤسز پر لاگو ہو چکی ہے۔ اب ایک درست شناختی کارڈ اور بینک اکاؤنٹ رکھنے والا کوئی بھی شخص 24 گھنٹوں کے اندر سرمایہ کاری شروع کرنے کے قابل ہوگا۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ تکنیکی آسانی واقعی مارکیٹ میں نئے سرمایہ کاروں کا سیلاب لائے گی یا بروکرز کو اس سہولت کو عوام تک پہنچانے کے لیے مزید متحرک ہونا پڑے گا۔ ایس ای سی پی نے راستہ ہموار کر دیا ہے، اب گیند بروکریج فرموں کے کورٹ میں ہے۔
