اسلام آباد میں وفاقی حکومت نے ‘نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026’ کا باضابطہ اجرا کر دیا ہے۔ اس نئی حکمت عملی کا مقصد محض افرادی قوت کی برآمد تک محدود رہنے کے بجائے تارکین وطن کے حقوق کے تحفظ اور بیرون ملک جانے والے ہنر مندوں کی واپسی کے لیے مراعاتی پیکج متعارف کروانا ہے۔
برسوں سے پاکستان کا لیبر ایکسپورٹ ماڈل صرف تعداد پر انحصار کرتا رہا ہے۔ لاکھوں مزدوروں نے اربوں ڈالر زرمبادلہ تو بھیجا، لیکن ملک ایک خاموش بحران یعنی ‘برین ڈرین’ کی زد میں رہا۔ ڈاکٹر، انجینئرز اور آئی ٹی ماہرین کا بیرون ملک انخلا ملکی معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ نئی پالیسی میں بیرون ملک سے واپسی پر ٹیکس مراعات اور تارکینِ وطن کے ہنر کو رجسٹر کرنے کے لیے ایک ڈیجیٹل سسٹم متعارف کرایا گیا ہے۔
تقریبِ اجرا کے موقع پر وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز نے کہا کہ "ہم اب صرف لیبر ایکسپورٹ نہیں کر رہے، بلکہ انسانی سرمائے کو منظم کر رہے ہیں۔” انہوں نے تسلیم کیا کہ ماضی کی پالیسیاں محض وقتی ردعمل تھیں، جبکہ یہ نیا لائحہ عمل عالمی منڈی کے تقاضوں کو مقامی ووکیشنل ٹریننگ کے ساتھ جوڑنے کی پہلی سنجیدہ کوشش ہے۔
پالیسی کے تحت ریکروٹمنٹ ایجنسیوں کے لیے ضوابط سخت کر دیے گئے ہیں۔ جعلی معاہدوں یا ویزا فراڈ میں ملوث پائے جانے والی ایجنسیوں کے لائسنس فوری منسوخ کیے جائیں گے۔ حکومت نے خلیجی ممالک اور یورپ میں ‘ویلفیئر ڈیسک’ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جہاں تارکین وطن کو قانونی معاونت اور کام کی جگہ پر مسائل کے حل کے لیے فوری مدد فراہم کی جائے گی۔
تجزیہ کاروں کا موقف ہے کہ کاغذ پر یہ پالیسی متاثر کن ہے، لیکن اس کا انحصار بیوروکریسی کی کارکردگی پر ہے۔ ماضی میں بھی تحفظ کے کئی اقدامات وزارتِ خارجہ اور اوورسیز فاؤنڈیشن کے درمیان عدم رابطے کی نذر ہو چکے ہیں۔
حکومت نے وطن واپسی پر اپنے کاروبار شروع کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے ایک خصوصی فنڈ اور آسان شرائط پر قرضوں کا اعلان بھی کیا ہے۔ کیا یہ اقدامات ہنر مندوں کے انخلا کو روکنے کے لیے کافی ہوں گے؟ اس کا جواب وقت ہی دے گا۔ فی الحال، یہ پالیسی اس بات کا اعتراف ہے کہ ریاست نے اپنے بہترین دماغوں کے ضیاع کی قیمت کو سمجھ لیا ہے اور اب اسے روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔
