اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا ہے۔ نیویارک میں بریفنگ کے دوران گوتریس نے اسلام آباد کے حالیہ اقدامات کو خطے میں استحکام کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔
عالمی ادارے کی جانب سے یہ توثیق ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سرحدوں پر کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال نے خطے کے امن کو داؤ پر لگا رکھا ہے۔ اقوامِ متحدہ کا یہ مؤقف ظاہر کرتا ہے کہ وہ بیان بازی کے بجائے سفارتی چینلز کو بحال کرنے کی حمایت کر رہا ہے۔
پاکستان کی وزارتِ خارجہ گزشتہ کئی ہفتوں سے عالمی طاقتوں کے سامنے ایک "ڈی-ایسکیلیشن روڈ میپ” پیش کر رہی ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد ان مواصلاتی رابطوں کو بحال کرنا ہے جو گزشتہ سرحدی جھڑپوں کے بعد سے منقطع تھے۔ اسلام آباد میں حکام کا ماننا ہے کہ اگر یہ حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو ایک معمولی غلطی بھی بڑے تصادم کا باعث بن سکتی ہے۔
پاکستان کی اندرونی سیاسی و معاشی صورتحال پر تنقید کرنے والے حلقے اکثر ان امن کوششوں کی پائیداری پر سوال اٹھاتے ہیں۔ تاہم، اقوامِ متحدہ کے سربراہ نے ان اندرونی چیلنجز کو امن مذاکرات کی ضرورت قرار دیا ہے۔
گوتریس نے زمینی حقائق کا اعتراف کرتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ کوششیں ابھی نازک مرحلے پر ہیں۔ ان کے مطابق، کامیابی کا دارومدار سرحد کے دونوں جانب موجود قیادت کے سیاسی عزم پر ہے، جو گزشتہ کئی برسوں سے مفقود رہا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے اس بیان نے پاکستان کو ایک ایسی سفارتی ڈھال فراہم کی ہے جس سے حکومت اپنی پالیسی تبدیلیوں کو کمزوری کے بجائے بین الاقوامی امن کے لیے ایک تزویراتی قدم کے طور پر پیش کر سکتی ہے۔ اب اصل امتحان یہ ہے کہ کیا یہ "مذاکرات کی جگہ” محض لفظی جمع خرچ ثابت ہوگی یا دونوں فریقین کسی ٹھوس نتیجے پر پہنچ پائیں گے۔
