اسلام آباد — وفاقی حکومت نے بدھ کی رات پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا اعلان کر دیا، جس کے بعد پیٹرول 8.50 روپے فی لیٹر سستا ہو گیا ہے۔
نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات بارہ بجے سے ہو چکا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 268.45 روپے مقرر کی گئی ہے۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 6.70 روپے کی کمی کی گئی ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 272.15 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
حکومتی فیصلہ عالمی منڈی میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران خام تیل کی قیمتوں میں آنے والی گراوٹ کے بعد سامنے آیا ہے۔ عالمی سطح پر قیمتیں مستحکم ہونے کے بعد وزارت خزانہ نے ریلیف کا یہ اقدام اٹھایا ہے، جس سے مہنگائی کی چکی میں پسے ہوئے عوام کو کچھ ریلیف ملنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔
عام شہری کے لیے ایندھن کی قیمت میں یہ کمی ایک خوشگوار تبدیلی ہے۔ پاکستان میں ٹرانسپورٹ کے اخراجات مہنگائی کی بنیادی وجہ رہے ہیں؛ پیٹرول سستا ہونے سے اشیائے ضروریہ کی نقل و حمل کے اخراجات میں کمی متوقع ہے، جس کا براہِ راست اثر عام مارکیٹ پر پڑے گا۔
پیٹرولیم ڈویژن کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "عالمی منڈی کے رجحانات واضح تھے، ہم نے درآمدی لاگت میں کمی کا فائدہ عوام تک پہنچانے کا فیصلہ کیا۔”
کمی کے باوجود حکومت پر دباؤ برقرار ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت حکومت پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کو ایک خاص سطح پر رکھنے کی پابند ہے تاکہ بجٹ خسارے کو پورا کیا جا سکے۔ اس بار قیمتوں میں کمی کا مطلب یہ ہے کہ حکومت نے اپنے ریونیو اہداف کو برقرار رکھتے ہوئے عوام کو کچھ گنجائش فراہم کی ہے۔
اگرچہ یہ ریلیف خوش آئند ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی قیمت کا ایک بڑا حصہ اب بھی مختلف ٹیکسوں پر مشتمل ہے۔ پیٹرولیم لیوی اور سیلز ٹیکس بدستور حکومتی آمدنی کے اہم ذرائع ہیں، جن کی وجہ سے عالمی منڈی میں کمی کا مکمل اثر صارفین تک نہیں پہنچ پاتا۔
مستقبل میں قیمتوں کا انحصار مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور روپے کی قدر پر ہوگا۔ فی الحال، یہ کمی مہنگائی سے تنگ عوام کے لیے ایک عارضی سہارا ضرور ہے۔
