واشنگٹن، 23 جولائی 2026: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری تعاون کا معاہدہ اسی صورت میں نافذ ہوگا جب سعودی عرب ابراہم معاہدوں (Abraham Accords) میں شامل ہو کر اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات معمول پر لائے گا۔
صدر ٹرمپ کے مطابق اس معاہدے کا مقصد سعودی عرب کو پرامن مقاصد کے لیے سول نیوکلیئر توانائی کا پروگرام فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ کسی بھی صورت میں جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے نہیں ہوگا اور اس میں ایسے حفاظتی اقدامات شامل ہوں گے جو اس پروگرام کو صرف شہری مقاصد تک محدود رکھیں گے۔
ٹرمپ نے کہا کہ سعودی عرب کا ابراہم معاہدوں میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن اور استحکام کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا۔ ان کے مطابق ریاض اور تل ابیب کے درمیان تعلقات کی بحالی خطے میں سفارتی تعاون کو نئی جہت دے سکتی ہے۔
دوسری جانب سعودی عرب کی جانب سے ٹرمپ کے اس بیان پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم سعودی قیادت پہلے بھی یہ مؤقف اختیار کر چکی ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کا انحصار فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب واضح پیش رفت پر ہے۔
مجوزہ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کا امریکی کانگریس میں بھی جائزہ لیا جائے گا۔ کئی قانون سازوں اور جوہری عدم پھیلاؤ کے ماہرین نے معاہدے میں نگرانی، شفافیت اور حفاظتی اقدامات سے متعلق خدشات کا اظہار کیا ہے تاکہ اس ٹیکنالوجی کا فوجی مقاصد کے لیے استعمال نہ ہو سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ معاہدہ حتمی شکل اختیار کر لیتا ہے تو اس سے امریکہ اور سعودی عرب کے اسٹریٹجک تعلقات مزید مضبوط ہوں گے، جبکہ سعودی عرب کا ابراہم معاہدوں میں شامل ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ مشرقِ وسطیٰ کی مستقبل کی سفارت کاری پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
