نیویارک/واشنگٹن: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان کو علاقائی اور عالمی امن کے لیے فعال کردار پر دنیا بھر میں پذیرائی مل رہی ہے، اور بڑے عالمی معاملات پر پاکستان کی سفارت کاری کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔
نیویارک میں پاکستانی نژاد امریکی کمیونٹی کے اعزاز میں عید ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ اسلام آباد اعتماد کے ساتھ مذاکرات، کشیدگی میں کمی اور استحکام کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی دفاعی صلاحیت نے ایک امن پسند ملک کے طور پر اس کی ساکھ کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط کیا ہے۔
ان کے یہ ریمارکس ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب پاکستان امریکا ایران بحران پر سفارتی رابطے تیز کر رہا ہے۔ اسحاق ڈار جمعہ کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے بات چیت کے لیے واشنگٹن پہنچے، جہاں علاقائی کشیدگی اور دوطرفہ تعلقات ایجنڈے میں نمایاں ہیں۔
پاکستان کی حالیہ ثالثی کوششوں کو بیجنگ میں بھی توجہ ملی ہے۔ چینی صدر شی جن پنگ نے وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ چین کے دوران علاقائی امن کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا، جبکہ دونوں ممالک نے کشیدگی کم کرنے اور اہم سمندری راستوں کو محفوظ رکھنے کی کوششوں کی حمایت کی۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ یا اقوام متحدہ جیسے عالمی فورمز پر تنازعات کے پُرامن حل کی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے پاکستان کے سفارتی مؤقف کو حکومت کے اس وسیع پیغام سے بھی جوڑا کہ پاکستان اندرون ملک اور بیرون ملک استحکام چاہتا ہے۔
اسلام آباد میں حکام موجودہ صورتحال کو پاکستان کے لیے ایک موقع سمجھتے ہیں کہ وہ معاشی دباؤ اور سکیورٹی چیلنجز کے برسوں بعد خود کو ایک سنجیدہ سفارتی کردار کے طور پر دوبارہ پیش کرے۔ تاہم آگے کا راستہ آسان نہیں۔ ایران، امریکا اور اسرائیل سے جڑی کشیدگی بدستور نازک ہے، اور کسی بھی پیش رفت کا انحصار اسلام آباد سے کہیں آگے کیے جانے والے فیصلوں پر ہوگا۔
فی الحال اسحاق ڈار کا پیغام واضح ہے: پاکستان صرف علاقائی بحرانوں سے متاثر ہونے والا ملک نہیں بننا چاہتا، بلکہ ان بحرانوں سے نکلنے کا راستہ بنانے میں کردار ادا کرنے والا ملک بھی بننا چاہتا ہے۔
