اسلام آباد: سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے وکیل نے £190 ملین، یعنی القادر ٹرسٹ کیس میں 7 مئی کو مقرر مرکزی اپیلوں کی سماعت ملتوی کرنے کی درخواست دائر کر دی ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وکیل کو اصل اپیلوں پر دلائل دینے کا اختیار حاصل نہیں کیونکہ اس مقصد کے لیے باقاعدہ ہدایات اور نئے وکالت نامے ابھی تک نہیں مل سکے۔
دفاعی وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کی موجودہ نمائندگی زیادہ تر سزا معطلی کی درخواستوں تک محدود تھی، جبکہ مرکزی اپیلوں پر دلائل کے لیے عمران خان اور بشریٰ بی بی سے براہِ راست مشاورت ضروری ہے۔ درخواست کے مطابق اڈیالہ جیل حکام نے وکلا کی متعدد کوششوں کے باوجود ایسی ملاقاتوں کی سہولت فراہم نہیں کی، جس کے باعث مؤکلین سے ہدایات لینا اور ضروری قانونی دستاویزات مکمل کرنا ممکن نہیں ہو سکا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسلام آباد ہائی کورٹ اس سے پہلے سزا معطلی کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے قرار دے چکی تھی کہ چونکہ مرکزی اپیلیں سماعت کے لیے مقرر ہو چکی ہیں، اس لیے عبوری نوعیت کی درخواستوں پر مزید کارروائی غیر ضروری ہو گئی ہے۔ عدالت نے پھر اصل اپیلوں کی سماعت 7 مئی کے لیے مقرر کر دی تھی۔
اس مقدمے میں کئی ماہ سے قانونی اور طریقۂ کار سے متعلق پیچیدگیاں چل رہی ہیں۔ گزشتہ سماعتوں کے دوران دفاع نے انسانی بنیادوں پر بھی مؤقف اختیار کیا تھا کہ عمران خان کو طویل عرصے سے تنہائی میں رکھا گیا ہے اور انہیں آنکھوں کا مسئلہ بھی درپیش ہے۔ عدالت نے اس موقع پر عندیہ دیا تھا کہ عبوری ریلیف دینے کے بجائے بہتر راستہ یہ ہے کہ مرکزی اپیلوں کا جلد فیصلہ کیا جائے۔ تاہم اب وکیل کی نئی درخواست نے ایک بار پھر معاملے کو کارروائی کے ابتدائی مرحلے میں لا کھڑا کیا ہے۔
یہ اپیلیں 17 جنوری 2025 کو احتساب عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا کے خلاف دائر کی گئی تھیں۔ اس فیصلے میں عمران خان کو 14 سال اور بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ دونوں نے ان سزاؤں کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔ استغاثہ کا مؤقف ہے کہ یہ مقدمہ برطانیہ سے پاکستان واپس آنے والی 50 ارب روپے کی رقم اور بحریہ ٹاؤن سے متعلق زمین کے معاملے میں مبینہ بے ضابطگیوں سے جڑا ہوا ہے، جبکہ دفاع ان الزامات کی تردید کرتا آیا ہے۔
مقدمے کی کارروائی کے دوران استغاثہ کی جانب سے بھی تاخیر کے الزامات سامنے آتے رہے۔ ایک موقع پر عدالت نے نیب کے پراسیکیوٹر پر تاخیری حربے استعمال کرنے پر جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ماضی میں دفاعی ٹیم خود اس بات پر زور دیتی رہی کہ کیس کو جلد سنا جائے، مگر اب ان کا کہنا ہے کہ اصل اپیلوں پر دلائل دینے سے پہلے مؤکلین سے باقاعدہ ہدایات لینا ناگزیر ہے۔
اب 7 مئی کی سماعت میں بنیادی سوال یہ ہوگا کہ آیا عدالت دفاع کی استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت ملتوی کرتی ہے یا نہیں۔ اگر درخواست منظور ہو جاتی ہے تو مقدمے میں مزید تاخیر ہو سکتی ہے۔ اور اگر عدالت اسے مسترد کر دیتی ہے تو پھر یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا اپیلوں پر سماعت اس صورت میں آگے بڑھ سکتی ہے جب دفاع خود کہہ رہا ہو کہ اسے مرکزی دلائل دینے کا مکمل اختیار حاصل نہیں۔
یہ سماعت صرف ایک قانونی تاریخ نہیں رہی، بلکہ اب یہ اس بات کا امتحان بن چکی ہے کہ آیا پہلے ہی تاخیر کا شکار اور سیاسی طور پر حساس یہ مقدمہ واقعی اپنے اصل نکات پر آگے بڑھ سکے گا یا پھر ایک بار پھر طریقۂ کار کے سوالات میں الجھ جائے گا۔
