عالمی مالیاتی منڈیوں میں اس وقت مثبت رجحان دیکھنے میں آیا جب رپورٹس سامنے آئیں کہ امریکہ اور ایران جاری تنازع کے خاتمے کے لیے ممکنہ امن معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں۔
سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کے باعث دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹس میں نمایاں تیزی دیکھی گئی۔ یورپ اور ایشیا کی بڑی مارکیٹس میں اہم انڈیکسز میں اضافہ ہوا، جبکہ امریکی اسٹاک فیوچرز بھی اوپر گئے۔ اس تیزی کی بنیادی وجہ یہ امید ہے کہ جغرافیائی کشیدگی میں کمی عالمی تجارت اور معیشت کو مستحکم کرے گی۔
دوسری جانب تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 7 سے 8 فیصد تک گر گئی، جبکہ امریکی تیل کی قیمتوں میں بھی کمی آئی۔ اس کمی کی بڑی وجہ یہ توقع ہے کہ امن معاہدے کے نتیجے میں آبنائے ہرمز جیسے اہم عالمی تیل سپلائی روٹ دوبارہ کھل سکتے ہیں، جو تنازع کے دوران متاثر ہوئے تھے۔
ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے سے سپلائی میں رکاوٹوں کا خطرہ کم ہو جاتا ہے، جس سے عموماً تیل کی قیمتیں نیچے آتی ہیں۔ تیل کی کم قیمتیں مہنگائی میں کمی اور عالمی معیشت پر دباؤ کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
مجموعی طور پر ممکنہ امن معاہدے کی خبروں نے عالمی منڈیوں میں “رسک آن” ماحول پیدا کر دیا ہے، جہاں مثبت توقعات کے باعث اسٹاک مارکیٹس میں اضافہ ہوا جبکہ جغرافیائی خطرات کم ہونے سے تیل کی قیمتیں نیچے آئیں۔
