ایران کی جانب سے 17 اپریل 2026 کو یہ اعلان کہ آبنائے ہرمز تجارتی جہازوں کے لیے “مکمل طور پر کھلی” ہے، خطے میں کشیدگی کم ہونے کی ایک اہم علامت کے طور پر دیکھا گیا۔ اس اعلان کے فوراً بعد عالمی منڈیوں میں کچھ اطمینان آیا اور تیل کی قیمتوں میں بھی کمی دیکھی گئی، جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ شاید سفارتی راستہ دوبارہ کھل سکتا ہے۔
لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ آبنائے کھل جانا امن معاہدے کے برابر نہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایرانی جہازوں اور بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی بدستور برقرار رہے گی، جب تک تہران کے ساتھ ایک وسیع تر معاہدہ نہیں ہو جاتا، جس میں ایران کے جوہری پروگرام جیسے معاملات بھی شامل ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جو فوری امیدوں کو محدود کرتا ہے۔
صورتحال اس لیے بھی نازک ہے کہ یہ پیش رفت ایک 10 روزہ اسرائیل-حزب اللہ جنگ بندی کے بعد سامنے آئی ہے، اور خود یہ جنگ بندی ابھی غیر یقینی کیفیت سے باہر نہیں نکلی۔ رپورٹوں کے مطابق لبنان میں لوگ تباہ حال علاقوں کی طرف واپس تو جا رہے ہیں، مگر وقفے وقفے سے تشدد، سکیورٹی خدشات اور سیاسی کشمکش اب بھی موجود ہیں۔ یعنی میدان میں خاموشی مکمل نہیں، صرف وقتی ہے۔
ممکنہ مذاکرات کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹیں بھی وہی پرانی مگر سخت ہیں: ایران کا جوہری پروگرام، سمندری راستوں کی آزادانہ رسائی، اور جنگی نقصانات کے ازالے کا سوال۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ثالثی کی کوششیں انہی معاملات کے گرد گھوم رہی ہیں۔ ٹرمپ نے یہ عندیہ بھی دیا کہ مزید بات چیت جلد ہو سکتی ہے، مگر بعض اہم دعوے، خاص طور پر افزودہ یورینیم سے متعلق، ایران یا ثالثوں کی جانب سے تصدیق شدہ نہیں تھے۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی بیانات میں امید زیادہ اور زمینی یقین کم دکھائی دیتا ہے۔
ایران کے اندر بھی اس فیصلے پر سوالات اٹھے ہیں۔ بعض داخلی آوازوں نے پوچھا کہ آبنائے ہرمز کو اس مرحلے پر کھولنے کا فیصلہ کس سطح پر اور کن شرائط کے تحت کیا گیا۔ اسی کے ساتھ خبر یہ بھی رہی کہ جہازوں کی آمدورفت مکمل طور پر آزاد انداز میں نہیں بلکہ متعین اور ایرانی ہم آہنگی والے راستوں کے تحت ممکن بنائی گئی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ صورت حال معمول پر واپس آنے کے بجائے ابھی بھی سخت نگرانی کے مرحلے میں ہے۔
خلاصہ یہی ہے: ہرمز کھلنا ایک مثبت اشارہ ہے، حل نہیں۔ اس سے کشیدگی کا درجہ کچھ کم ہوا، منڈیوں کو وقتی سہارا ملا، اور سفارت کاری کے لیے تھوڑی جگہ بنی۔ مگر جب تک امریکی ناکہ بندی برقرار ہے، لبنان کی جنگ بندی کمزور ہے، اور جوہری و سکیورٹی معاملات پر کوئی قابلِ عمل سمجھوتا سامنے نہیں آتا، تب تک امن مذاکرات کی راہ کھلی ہوئی نہیں کہی جا سکتی۔ راستہ دکھائی دیا ہے، مگر منزل ابھی دور ہے۔
