نیوزی لینڈ نے میرپور میں کھیلے گئے پہلے ون ڈے میچ میں بنگلہ دیش کو 26 رنز سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل کر لی۔ اس کامیابی میں فاسٹ بولر بلیئر ٹکنر نے فیصلہ کن کردار ادا کیا، جن کی بولنگ نے بنگلہ دیش کی اننگز کے آخری حصے میں اچانک زوال پیدا کر دیا۔ ہدف کے تعاقب میں بنگلہ دیش 248 رنز کے جواب میں 48.3 اوورز میں 221 رنز پر آؤٹ ہو گیا۔
ایک مرحلے پر ایسا لگ رہا تھا کہ میزبان ٹیم میچ اپنے نام کر سکتی ہے۔ بنگلہ دیش کی جانب سے سیف حسن نے 57 اور توحید ہردوئے نے 55 رنز بنا کر تعاقب کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔ ٹیم مقابلے میں موجود تھی، وکٹیں بھی ہاتھ میں تھیں، اور ہدف ناقابلِ رسائی نہیں لگ رہا تھا۔ لیکن پھر میچ کا نقشہ اچانک بدل گیا۔

یہی وہ لمحہ تھا جب ٹکنر نے کھیل اپنے قبضے میں لے لیا۔ انہوں نے 10 اوورز میں 40 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں اور بنگلہ دیشی اننگز کی کمر توڑ دی۔ ان کا اسپیل صرف وکٹیں لینے تک محدود نہیں تھا بلکہ اس نے دباؤ کو اس حد تک بڑھا دیا کہ بنگلہ دیش کی بیٹنگ لائن یکدم بکھر گئی۔ نیتھن اسمتھ نے بھی 3 وکٹیں لے کر بھرپور ساتھ دیا، جس سے نیوزی لینڈ نے واپسی کا ہر راستہ تقریباً بند کر دیا۔
بنگلہ دیش کی اصل پریشانی شکست نہیں بلکہ اس شکست کا انداز تھا۔ ایک جیتنے کے قابل میچ میں اس نے آخری چھ وکٹیں صرف 37 رنز کے اندر گنوا دیں۔ یہی collapse میچ کا فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔ ایک وقت جو اننگز قابو میں دکھائی دے رہی تھی، وہ چند اوورز میں دباؤ، غلط فیصلوں اور اچھی بولنگ کے سامنے ڈھیر ہو گئی۔
اس سے پہلے نیوزی لینڈ نے 50 اوورز میں 8 وکٹوں پر 247 رنز بنائے تھے۔ ہنری نکولس نے 83 گیندوں پر 68 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیلی، جبکہ ڈین فاکس کرافٹ نے 58 گیندوں پر 59 رنز بنا کر ٹیم کے مجموعے کو مضبوط کیا۔ یہ کوئی بہت بڑا اسکور نہیں تھا، لیکن اتنا ضرور تھا کہ اگر بولرز نظم و ضبط سے کام لیتے تو میچ بنایا جا سکتا تھا — اور نیوزی لینڈ نے بالکل وہی کیا۔
بنگلہ دیش کی بولنگ بھی مکمل طور پر ناکام نہیں رہی تھی۔ شوریف الاسلام نے 10 اوورز میں 27 رنز دے کر 2 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ رشاد حسین نے بھی دو کھلاڑی آؤٹ کیے۔ اسی لیے درمیانی وقفے پر 248 رنز کا ہدف قابلِ حصول محسوس ہو رہا تھا۔ شاید یہی بات اس شکست کو بنگلہ دیش کے لیے اور زیادہ تکلیف دہ بناتی ہے: مسئلہ ہدف کا نہیں، اختتام کا تھا۔
نیوزی لینڈ کے لیے یہ کامیابی صرف سیریز میں برتری نہیں بلکہ ایک واضح پیغام بھی ہے۔ ان کے فاسٹ بولرز نے مشکل حالات میں صبر، لائن اور لمبائی کے ساتھ کام لیا، اور جب موقع ملا تو میچ مکمل طور پر اپنے حق میں موڑ دیا۔ ٹکنر اس جیت کے نمایاں ہیرو رہے، لیکن مجموعی طور پر یہ ایک منظم اور پختہ ٹیم کارکردگی تھی۔
اب بنگلہ دیش کے سامنے دوسرا ون ڈے صرف واپسی کا نہیں بلکہ اعصاب کے امتحان کا میچ ہوگا۔ اگر میزبان ٹیم نے سیریز برابر کرنی ہے تو اسے بیٹنگ کے آخری مرحلے میں زیادہ استحکام دکھانا ہوگا۔ ورنہ پہلا میچ ایک وارننگ بھی ہے اور ایک ضائع شدہ موقع بھی۔
