تہران — پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی سرکاری آخری رسومات میں شرکت کے لیے آج صبح تہران پہنچ گئے۔
راولپنڈی میں فوجی ذرائع نے اس دورے کی تصدیق کی ہے۔ یہ دورہ ایران میں سپریم لیڈر کی وفات کے بعد پیدا ہونے والے سفارتی خلا کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ جنرل عاصم منیر کی جانب سے تدفین کی تقریبات کے دوران ایرانی عبوری قیادت اور پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔
پاکستان کے لیے اس دورے کے مضمرات گہرے ہیں۔ تہران، بلوچستان کی سرحد پر سیکیورٹی اور توانائی کے شعبے میں تعاون کے حوالے سے اسلام آباد کا ایک اہم مگر پیچیدہ شراکت دار رہا ہے۔ خامنہ ای کی وفات کے بعد ایرانی ریاست کے اندر اقتدار کی کشمکش اور بدلتی حرکیات ایک بڑا سوال ہیں۔ جنرل منیر کی موجودگی اس بات کو یقینی بنانے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہے کہ اس عبوری دور میں دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی تعلقات مستحکم رہیں۔
سفارتی مبصرین اس دورے کے وقت کو ایک واضح پیغام قرار دے رہے ہیں۔ اگرچہ اسلام آباد میں سویلین قیادت کی جانب سے تعزیتی پیغامات جاری کیے جا چکے ہیں، مگر آرمی چیف کی ذاتی موجودگی اس فوجی رابطے کو نمایاں کرتی ہے جو اکثر پاک ایران تعلقات کا سب سے فعال پہلو رہا ہے۔
آخری رسومات میں مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے کئی رہنما شریک ہو رہے ہیں، جن میں سے بیشتر ایران کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا شکار ہیں۔ پاکستان کے لیے بنیادی تشویش سرحد پر ممکنہ بے چینی یا ایران کی جانب سے ان علاقائی تنازعات پر موقف میں تبدیلی ہے جن کے اثرات اکثر پاکستانی حدود تک پہنچتے ہیں۔
تہران روانگی سے قبل جنرل عاصم منیر نے اپنے اعلیٰ کمانڈروں کے ساتھ بند کمرے میں بریفنگ کا ایک سلسلہ مکمل کیا۔ ملاقات کی تفصیلات خفیہ رکھی گئی ہیں، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کا مرکزی نقطہ ایران میں سوگ کے دوران مغربی سرحد پر "آپریشنل تیاری” کو برقرار رکھنا تھا۔
تہران میں تدفین کی تیاریاں حتمی مراحل میں ہیں اور شہر کی سڑکوں پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ ایران کی اگلی خارجہ پالیسی اور اقتدار کی منتقلی کا انحصار اب ‘ماہرین کی کونسل’ کے فیصلوں پر ہے۔
فی الحال، پاکستان کے عسکری سربراہ تہران میں موجود ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ جب ایران میں حالات کا غبار چھٹے، تو اسلام آباد کے تزویراتی مفادات ہر صورت محفوظ رہیں۔
