اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی بانی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ کرپشن ریفرنس کو جلد نمٹانے کا مطالبہ کیا ہے، اور مسلسل تاخیر پر ٹرائل کورٹ کو واضح طور پر خبردار کر دیا ہے۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی سربراہی میں ڈویژن بینچ نے واضح کیا کہ کارروائی میں جاری جمود اب قابل قبول نہیں۔
بدھ کو سماعت کے دوران بینچ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ بار بار ہدایات کے باوجود ٹرائل کورٹ کیس کو حتمی انجام تک نہیں پہنچا سکی۔ جسٹس اورنگزیب نے سوال اٹھایا کہ احتساب عدالت کارروائی کو تیز کیوں نہیں کر سکتی، اور کہا کہ عدالتی نظام کی ساکھ اس بات پر منحصر ہے کہ وہ ہائی پروفائل مقدمات کو سیاسی یا طریقہ کار کی رکاوٹوں کا شکار بنائے بغیر نمٹا سکے۔
پی ٹی آئی بانی کی قانونی ٹیمیں مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہیں کہ مقدمے کو غیر منصفانہ طور پر تیزی سے چلایا جا رہا ہے، جبکہ قومی احتساب بیورو کا کہنا ہے کہ دفاعی فریق فیصلے سے بچنے کے لیے تاخیری حربے استعمال کر رہا ہے۔ تاہم ہائی کورٹ نے اپنی توجہ ٹرائل جج پر مرکوز رکھی اور زور دیا کہ عدالت کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ کمرہ عدالت کو مؤثر انداز میں چلائے اور مناسب مدت میں فیصلہ یقینی بنائے۔
190 ملین پاؤنڈ کیس ان الزامات کے گرد گھومتا ہے کہ سابق وزیرِ اعظم اور ان کے ساتھیوں نے برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی سے ہونے والی ایک سیٹلمنٹ کو اس انداز میں ایڈجسٹ کیا جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔ پی ٹی آئی بانی ان الزامات کی مسلسل تردید کرتے رہے ہیں اور انہیں اپنی جماعت کو سیاسی طور پر کنارے لگانے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔
عدالت کی تازہ مداخلت اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ عدلیہ اب اس مقدمے کی نگرانی کے طریقہ کار میں سختی لانا چاہتی ہے۔ احتساب عدالت سے واضح روڈ میپ طلب کر کے بینچ نے پیغام دیا ہے کہ وہ اس طویل تاخیر کو مزید برداشت نہیں کرے گا جس نے کئی ماہ سے اس مقدمے کو گھیر رکھا ہے۔
اب احتساب جج سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ باقی گواہوں اور دلائل کے لیے ٹھوس شیڈول فراہم کریں گے۔ یہ ہدایت واقعی فیصلے کی طرف لے جاتی ہے یا صرف ایک نئی قانونی پیچیدگی پیدا کرتی ہے، یہی اس مقدمے کا مرکزی سوال ہے۔ فی الحال دباؤ مکمل طور پر ٹرائل کورٹ پر ہے کہ وہ ثابت کرے کہ قانونی عمل پر عوامی اعتماد ختم ہونے سے پہلے فیصلہ سنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
