نداسیما — وسطی افریقی جمہوریہ کے علاقے اوواکا میں سونے کی ایک غیر قانونی کان منہدم ہونے سے کم از کم 100 افراد ہلاک ہو گئے۔ مقامی حکام کے مطابق امدادی کارروائیاں جاری ہیں، تاہم ملبے تلے دبے افراد کے زندہ بچنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
منگل کے روز پیش آنے والا یہ واقعہ نداسیما کے دور افتادہ علاقے میں ہوا، جہاں گزشتہ کئی روز سے جاری شدید بارشوں کے باعث زمین نرم پڑ چکی تھی۔ کان کے اوپر مٹی کا تودہ گرنے سے وہاں کام کرنے والے درجنوں مزدور موقع پر ہی دب گئے۔ مقامی انتظامیہ کے پاس بھاری مشینری موجود نہیں ہے، جس کے باعث مقامی لوگ ہاتھوں اور کدالوں کی مدد سے ملبہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایک مقامی عہدیدار نے جائے وقوعہ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "زمین نے سب کو نگل لیا۔ ہمارے پاس نہ تو آلات ہیں اور نہ ہی کوئی جدید سہولت، ہم صرف اپنے ہاتھوں سے کام کر رہے ہیں، لیکن اب کسی کے زندہ بچنے کی امید ختم ہو چکی ہے۔”
اس خطے میں سونے کی کان کنی غربت سے لڑنے کا واحد ذریعہ ہے، لیکن یہ کام موت کا سودا بن چکا ہے۔ یہاں زیادہ تر کانیں غیر منظم ہیں اور ان میں حفاظت کے بنیادی اصولوں کا بھی خیال نہیں رکھا جاتا۔ مزدور چند گرام سونا نکالنے کے لیے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس روزگار کا کوئی دوسرا متبادل نہیں۔
بنگوئی میں موجود مرکزی حکومت کی ان دور دراز کانوں پر گرفت نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان میں سے کئی مقامات پر مقامی ملیشیا کا کنٹرول ہے یا پھر یہ مکمل طور پر سرکاری نگرانی سے باہر ہیں۔ اس سانحے نے ان غیر محفوظ کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی بے بسی کو ایک بار پھر دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔
ہسپتالوں میں جگہ کم پڑ گئی ہے اور طبی سہولیات کا فقدان امدادی کاموں میں بڑی رکاوٹ ہے۔ کان کے دہانے پر جمع ہونے والے لواحقین کی چیخ و پکار سے فضا سوگوار ہے۔ کئی خاندان اپنے پیاروں کی لاشیں ملنے کے انتظار میں بیٹھے ہیں، جبکہ کچھ نے تدفین کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔
غربت کے مارے یہ مزدور جس سونے کی تلاش میں زمین کے سینے میں اترے تھے، وہی سونا آج ان کے لیے قبر بن گیا۔
