لاس اینجلس کے رہائشی، جو برسوں سے یہاں کی خشک گرمی کے عادی تھے، اب ایئر کنڈیشنرز کے بجائے مچھر مار اسپرے اور جالیوں کا سہارا لینے پر مجبور ہیں۔ موسم میں اچانک تبدیلی کے باعث شہر میں نمی کا تناسب غیر معمولی حد تک بڑھ گیا ہے، جس نے مچھروں کی افزائش کے لیے سازگار ماحول پیدا کر دیا ہے۔
یہ سلسلہ چند روز قبل شروع ہوا جب ساحلی علاقوں میں ہوا کا دباؤ بڑھنے سے نمی کا تناسب بڑھ گیا۔ جس شہر کی پہچان ہی خوشگوار اور خشک ہوا تھی، وہاں اب حبس نے شام کے وقت گھر سے باہر نکلنا یا کھڑکیاں کھولنا ایک مشکل کام بنا دیا ہے۔
سلور لیک میں رہائش پذیر ایلینا روڈریگز کا کہنا ہے، "ہوا اتنی بوجھل ہے کہ سانس لینا دشوار لگتا ہے۔ میں یہاں دس سال سے رہ رہی ہوں، لیکن کبھی نہیں سوچا تھا کہ لاس اینجلس میں مجھے مچھروں سے لڑنا پڑے گا۔” انہوں نے گزشتہ تین دنوں سے گھر کی کھڑکیاں نہیں کھولیں۔
ویکٹر کنٹرول حکام کے مطابق یہ محض اتفاق نہیں ہے۔ ‘ایڈیز’ نسل کے مچھر، جو اب اس خطے میں مستقل مسئلہ بن چکے ہیں، ایسی ہی مرطوب فضا میں تیزی سے پنپتے ہیں۔ یہ مچھر کسی دلدل کے محتاج نہیں؛ گملوں کے نیچے رکھی پلیٹوں، پانی کی ٹینکیوں یا گھروں کے باہر موجود چھوٹے برتنوں میں جمع پانی ان کے لیے افزائش کا مرکز بن جاتا ہے۔
نمی نے نہ صرف گرمی کی شدت میں اضافہ کیا ہے بلکہ مچھروں کی زندگی کے دورانیے کو بھی تیز کر دیا ہے۔ گرم اور مرطوب ہوا میں ان کے انڈے تیزی سے نکلتے ہیں اور مچھروں کی سرگرمی رات گئے تک برقرار رہتی ہے۔
گریٹر لاس اینجلس ویکٹر کنٹرول ڈسٹرکٹ کے ترجمان نے بتایا کہ "عوام اس لیے مچھروں کی بھرمار دیکھ رہے ہیں کیونکہ ماحول راتوں رات بدل گیا ہے۔ جب درجہ حرارت اور نمی ایک خاص سطح پر پہنچ جائے تو یہ مچھر صرف زندہ نہیں رہتے بلکہ ان کی تعداد میں دھماکہ خیز اضافہ ہوتا ہے۔”
اگرچہ ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے ہی ہوا کا رخ بدلے گا، نمی کی شدت کم ہو جائے گی، لیکن مچھروں کی تعداد فوری طور پر کم ہونے کے امکانات کم ہیں۔ یہ حشرات شہر کے مصنوعی آبپاشی کے نظام اور چھپے ہوئے پانی کے ذخائر میں پناہ لینے کے ماہر ہو چکے ہیں۔
بہت سے شہریوں کے لیے موسم گرما کی پرسکون شاموں کا خواب اب مچھروں سے بچاؤ کی جدوجہد میں بدل چکا ہے۔ سورج ڈھلتے ہی اب تفریح کے بجائے دروازے بند کرنے اور کیمیکل کے استعمال پر توجہ مرکوز ہو جاتی ہے۔
گرمی کی لہر تو شاید کچھ دن میں ٹوٹ جائے، لیکن مچھروں کا یہ حملہ لاس اینجلس کے بدلتے ہوئے موسمیاتی حالات کی ایک تلخ حقیقت بن کر سامنے آیا ہے۔
