کراچی — بحیرہ عرب میں جاری امدادی کارروائیوں کے دوران ٹیموں نے کے ٹو ایئرویز کے تباہ شدہ کارگو طیارے کا کاک پٹ اور فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر (بلیک باکس) تلاش کر لیا ہے۔ تین روز قبل پیش آنے والے اس حادثے کے بعد یہ پہلی بڑی کامیابی ہے، جس نے تحقیقات کا رخ اب تکنیکی وجوہات کے تعین کی جانب موڑ دیا ہے۔
ملبہ ساحل سے 15 میل دور 120 فٹ کی گہرائی میں پایا گیا۔ غوطہ خوروں نے سمندر کی تند و تیز لہروں کے باوجود چھ گھنٹے کی محنت کے بعد کاک پٹ کے حصوں کو محفوظ بنایا۔ حکام نے تصدیق کی ہے کہ اگرچہ طیارے کا مرکزی حصہ تاحال لاپتہ ہے، تاہم بلیک باکس کا مل جانا تفتیش کاروں کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔
میری ٹائم ریکوری کوآرڈینیٹر کیپٹن جمیل احمد نے کہا، "ریکارڈر کی حالت ہماری توقع سے بہتر ہے۔ اسے سول ایوی ایشن اتھارٹی کی لیبارٹری منتقل کیا جا رہا ہے اور ہمیں 48 گھنٹوں کے اندر ابتدائی ڈیٹا ملنے کی امید ہے۔”
یہ حادثہ مقامی ایوی ایشن سیکٹر کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ کارگو پرواز میں طبی سامان اور صنعتی آلات موجود تھے۔ طیارے کے عملے کے چاروں ارکان کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا، اور کاک پٹ کی برآمدگی کے بعد زندہ بچ جانے کی امیدیں تقریباً ختم ہو چکی ہیں۔
کراچی پورٹ پر جمع ہونے والے عملے کے لواحقین تاحال کسی واضح اطلاع کے منتظر ہیں۔ ایئرلائن انتظامیہ کو معلومات چھپانے پر تنقید کا سامنا ہے، تاہم انتظامیہ کا اصرار ہے کہ طیارے کو گزشتہ ماہ ہی پرواز کے لیے کلین چٹ دی گئی تھی۔
تحقیقات کا مرکزی نقطہ موسم کی صورتحال ہے۔ اگرچہ پرواز کے وقت موسم صاف بتایا گیا تھا، لیکن اسی صبح پرواز کرنے والے دیگر پائلٹس نے ساحلی پٹی کے قریب غیر متوقع ونڈ شیئر (ہوا کے شدید جھکڑ) کی نشاندہی کی تھی۔ تفتیش کار اب ان اطلاعات کا موازنہ فلائٹ پاتھ کے ڈیٹا سے کر رہے ہیں۔
طیارے کے بقیہ حصے کی تلاش کل صبح دوبارہ شروع ہوگی۔ فی الحال تمام تر توجہ بلیک باکس پر ہے، جس میں کاک پٹ کی آخری گفتگو اور سسٹم کے انتباہی سگنلز محفوظ ہیں۔ جب تک یہ ڈیٹا ڈیکوڈ نہیں ہوتا، اس کارگو پرواز کے اچانک غائب ہونے کی اصل وجہ ایک معمہ ہی رہے گی۔
