پاکستان کے بالائی علاقوں میں رہنے والے افراد ہفتے کے آخر میں سردی کی ایک اور لہر کے لیے تیار رہیں۔ محکمہ موسمیات نے مغربی ہواؤں کا ایک نیا سلسلہ داخل ہونے کی تصدیق کی ہے، جس کے نتیجے میں پہاڑی سلسلوں میں بارش اور برفباری کا امکان ہے۔ یہ پیشگوئی شمالی علاقوں میں جاری خشک موسم کے طویل دورانیے کے خاتمے کی علامت ہے۔
جمعہ کی رات سے خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر کے مختلف حصوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ میدانی علاقے اگرچہ خشک رہیں گے، لیکن بلند مقامات پر موسم کی صورتحال تیزی سے بدلے گی۔ ماہرینِ موسمیات کے مطابق پہاڑی چوٹیوں پر ہلکی سے درمیانی برفباری متوقع ہے، جس سے شمالی بیلٹ میں درجہ حرارت تیزی سے گرے گا۔
یہ درجہ حرارت میں گراوٹ محض موسمی تبدیلی نہیں، بلکہ ان علاقوں کے مکینوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے جو پہلے ہی شدید سردی کے اثرات سے نکل رہے ہیں۔ ایبٹ آباد، مانسہرہ اور سکردو جیسی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پہاڑی راستوں پر نقل و حمل کی صورتحال پر نظر رکھیں، کیونکہ برفباری کے باعث راستے عارضی طور پر بند ہو سکتے ہیں۔
یہ موسمی نظام اتوار تک برقرار رہے گا۔ اسلام آباد میں مطلع جزوی طور پر ابر آلود رہنے اور شام کے اوقات میں خنکی بڑھنے کا امکان ہے، تاہم بارش کا زیادہ تر مرکز پہاڑی اضلاع ہی رہیں گے۔
بالائی علاقوں کے کسان بھی اس پیشگوئی پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔ اگرچہ یہ بارش زمین کی نمی کے لیے فائدہ مند ہے، لیکن کسی بھی غیر متوقع شدت سے فصلوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات نے فی الحال کوئی ہنگامی الرٹ جاری نہیں کیا، تاہم ہفتے کے آخر میں شمالی علاقوں کا رخ کرنے والے سیاحوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سرد موسم کے مطابق تیاری کریں اور سفر سے قبل مقامی ٹریفک ایڈوائزری کو ضرور چیک کریں۔
یہ سرد لہر پیر کی صبح تک گزر جائے گی، جس کے بعد مطلع صاف ہونے کے ساتھ ہی شمالی علاقوں میں سردی کی شدت برقرار رہنے کا امکان ہے۔
