ڈھاکا — بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے بھارت سے باضابطہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ وہ نئی دہلی سے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی ممکنہ عوامی تقریر کے حوالے سے اپنا موقف واضح کرے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق، یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 5 اگست کو حسینہ واجد کے استعفے اور ملک سے فرار کے بعد ان کی بھارت میں موجودگی پر ڈھاکا میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ بنگلہ دیش کے مشیرِ خارجہ محمد توحید حسین نے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے عندیہ دیا کہ عبوری حکومت کسی بھی بیرونی سرزمین سے سابق حکمران کی سیاسی سرگرمی کو اشتعال انگیزی سمجھتی ہے۔
شیخ حسینہ، جو ملک میں جاری عوامی مظاہروں کے بعد بھارت پہنچیں، تب سے منظرِ عام سے غائب ہیں۔ تاہم، حالیہ اطلاعات کے مطابق وہ جلد ہی کسی عوامی پلیٹ فارم سے خاموشی توڑ سکتی ہیں۔ یہ خبر محمد یونس کی زیر قیادت عبوری حکومت کے لیے پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے۔
ڈھاکا کے لیے یہ معاملہ صرف شیخ حسینہ تک محدود نہیں بلکہ اس کے سیاسی مضمرات بھی ہیں۔ سابق وزیر اعظم کو اس وقت بنگلہ دیش میں قتل، انسانیت کے خلاف جرائم اور دیگر سنگین الزامات کے تحت درجنوں مقدمات کا سامنا ہے۔ عبوری حکومت کا موقف ہے کہ اگر بھارت نے انہیں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پناہ دی ہے، تو انہیں سیاسی سرگرمیوں یا حامیوں کو متحرک کرنے کی اجازت دینا اس پناہ کے تقدس کے منافی ہے۔
بھارتی وزارت خارجہ نے اب تک اس معاملے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ نئی دہلی کا موقف رہا ہے کہ حسینہ واجد کو سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر ہنگامی بنیادوں پر داخلے کی اجازت دی گئی تھی۔ بھارتی حکام بنگلہ دیشی عدالتوں میں جاری قانونی کارروائیوں اور گرفتاری کے وارنٹ پر تبصرہ کرنے سے گریزاں ہیں۔
یہ سفارتی تناؤ نئی دہلی کے لیے ایک مشکل توازن کا امتحان ہے۔ بھارت نے روایتی طور پر عوامی لیگ کی حمایت کی ہے اور انہیں ایک اہم سیکیورٹی پارٹنر سمجھتا رہا ہے۔ اب، جب ڈھاکا کا سیاسی منظرنامہ مکمل طور پر بدل چکا ہے، بھارتی حکام ایک نازک موڑ پر کھڑے ہیں۔ انہیں علاقائی استحکام بھی برقرار رکھنا ہے اور نئی حکومت کے ساتھ تعلقات کو بھی خراب نہیں کرنا۔
اب سوال یہ ہے کہ نئی دہلی اس مطالبے پر کیا ردعمل دیتا ہے۔ ڈھاکا کی عبوری حکومت کے لیے یہ فیصلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اسی سے یہ طے ہوگا کہ وہ اپنی داخلی صورتحال کو مستحکم کرنے کے لیے کتنی گنجائش رکھتی ہے۔
اب گیند بھارت کے کورٹ میں ہے۔ نئی دہلی کی خاموشی یا جواب، دونوں ہی صورتوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ اگست کے واقعات کے بعد دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان طاقت کا توازن کس حد تک تبدیل ہو چکا ہے۔
