انڈونیشیا کے بٹانگ تورو جنگلات میں چار روز تک جاری رہنے والی موسلادھار بارشوں نے دنیا کے نایاب ترین بندروں (اورنگوٹنز) کی نسل کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ایک نئی تحقیق کے مطابق، ان چار دنوں میں تپانولی اورنگوٹنز کی کل آبادی کا 7 فیصد حصہ ہلاک ہو گیا ہے، جس سے اس نسل کی بقا پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
تپانولی اورنگوٹنز کی کل تعداد 800 سے بھی کم رہ گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اتنی قلیل آبادی میں سے 7 فیصد کا ایک ہی ہفتے میں ختم ہو جانا ایک بڑی ماحولیاتی تباہی ہے۔ یہ جانور شمالی سوماترا کے گھنے جنگلات میں رہنے کے عادی ہیں، لیکن حالیہ شدید بارشوں سے آنے والے سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ نے ان کے ٹھکانوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔
تحقیق میں شامل ایک ماہر کا کہنا ہے کہ "اب ہم کسی سست تنزلی کی بات نہیں کر رہے، بلکہ یہ ایک اچانک آنے والی موسمی آفت ہے جو اس نسل کو صفحہ ہستی سے مٹا رہی ہے۔”
بٹانگ تورو کا یہ خطہ طویل عرصے سے ہائیڈرو پاور منصوبوں اور سونے کی کان کنی کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہے۔ ماحولیاتی ماہرین کے مطابق، جنگلات کی کٹائی کے باعث اورنگوٹنز کے پاس پناہ لینے کے لیے محفوظ مقامات نہیں بچے، جس کے نتیجے میں شدید بارشوں کے دوران یہ جانور پھنس کر رہ گئے۔
اس نسل کے پاس جینیاتی تنوع پہلے ہی بہت محدود ہے، اور اتنی بڑی تعداد میں بالغ جانوروں کا ضیاع ان کی افزائشِ نسل کی صلاحیت کو دہائیوں پیچھے دھکیل سکتا ہے۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی شدت اب ان جانوروں کے لیے براہِ راست موت کا پروانہ بن چکی ہے۔
ماہرینِ جنگلی حیات نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان جنگلات میں کسی بھی قسم کی صنعتی سرگرمیوں پر فوری پابندی لگائی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر جنگلات کا کٹاؤ اسی رفتار سے جاری رہا، تو اگلی بڑی موسمی آفت کے بعد تپانولی اورنگوٹنز کا بچ پانا ناممکن ہوگا۔
فی الحال، اس نسل کی بحالی کے امکانات معدوم نظر آتے ہیں، اور وقت تیزی سے ان کے خلاف ہو رہا ہے۔
