فیصل آباد کے ایک مقامی مدرسے میں منگل کے روز 15 سالہ طالب علم کی لاش برآمد ہوئی، جس کے بعد پولیس نے تفتیش کے دوران مقتول کے ہی استاد کو اس قتل کا مرکزی ملزم قرار دے دیا ہے۔
مقتول کی شناخت محمد احمد کے نام سے ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق لڑکا مدرسے کے ہاسٹل میں مردہ حالت میں پایا گیا، جس کے جسم پر گہرے زخموں کے نشانات موجود تھے۔ ابتدائی تفتیش کے دوران، وہ استاد جس کے سپرد لڑکے کی دینی تعلیم تھی، اس نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ قتل کی وجہ ذاتی رنجش معلوم ہوتی ہے، تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کیا گیا کہ تلخی کس بات پر بڑھی۔ ملزم پر الزام ہے کہ اس نے لڑکے کو مدرسے کے ایک ویران حصے میں بلایا اور وہاں اسے بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا۔
تفتیش سے واقف ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ "یہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا قتل ہے۔ ملزم کو لگا کہ وہ موقع واردات کو بدل کر بچ جائے گا، لیکن ہاسٹل سے ملنے والے شواہد نے اس کے جھوٹ کا پردہ چاک کر دیا۔”
اس واقعے نے مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے اور مدرسے کے باہر احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ بدھ کی صبح دیگر طلبہ کے والدین نے مدرسے کے گیٹ پر جمع ہو کر مطالبہ کیا کہ عملے کی مکمل جانچ پڑتال کی جائے اور ضلع بھر کے رہائشی تعلیمی اداروں کی نگرانی سخت کی جائے۔
انتظامیہ اور مذہبی حلقوں کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔ تاہم، ضلعی حکام نے مدرسے کو سیل کر دیا ہے تاکہ جائے وقوعہ کے شواہد محفوظ رہیں اور باقی طلبہ کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
ملزم اس وقت پولیس کی حراست میں ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ فارنزک رپورٹ مکمل ہوتے ہی اور آلہ قتل سے ملزم کا تعلق ثابت ہونے کے بعد اس کے خلاف باقاعدہ چارج شیٹ عدالت میں جمع کرائی جائے گی۔
ادھر احمد کے لواحقین اس وقت تدفین کی تیاریوں میں مصروف ہیں، جو یہ سوچ کر سکتے میں ہیں کہ جس جگہ کو ان کے بچے کی روحانی تربیت کے لیے منتخب کیا گیا تھا، وہی اس کی موت کا سبب بن گئی۔
