پولیس سرجن نے منگل کے روز پوسٹ مارٹم رپورٹ کی روشنی میں تصدیق کی ہے کہ میر رضا علی کی موت ‘ہیمرجک شاک’ (شدید خون بہہ جانے) کے باعث ہوئی۔ اس طبی نتیجے نے موت کے حوالے سے جاری قیاس آرائیوں کو ختم کرتے ہوئے تفتیش کا رخ ایک باقاعدہ مجرمانہ کارروائی کی جانب موڑ دیا ہے۔
ہیمرجک شاک تب ہوتا ہے جب جسم سے خون کا ایک بڑا حصہ ضائع ہو جائے، جس کے نتیجے میں اعضاء کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ طبی تشخیص اب تفتیشی حکام کے لیے اہم موڑ ثابت ہوئی ہے، کیونکہ اب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ موت کسی قدرتی وجہ سے نہیں بلکہ شدید زخموں کے باعث واقع ہوئی۔
تفتیش کی حساسیت کے پیشِ نظر نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر پولیس سرجن نے میڈیا کو بتایا کہ "موت کی وجہ بالکل واضح ہے۔ جسم پر لگنے والی چوٹوں کے باعث بہت زیادہ خون ضائع ہوا۔ یہ کوئی حادثہ نہیں تھا۔”
پولیس سرجن نے زخموں کی نوعیت کے بارے میں مزید تفصیلات دینے سے گریز کیا تاکہ تحقیقات کا عمل متاثر نہ ہو، تاہم ان کی رپورٹ نے کسی قسم کے ابہام کی گنجائش نہیں چھوڑی۔ تفتیشی ٹیمیں اب جائے وقوعہ سے ایسے فرانزک شواہد اکٹھے کر رہی ہیں جنہیں پہلے نظر انداز کیا گیا تھا، اور اب یہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ مرنے سے قبل مقتول کا کسی سے آمنا سامنا ہوا تھا۔
مقتول کے لواحقین، جو گزشتہ کئی دنوں سے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر رہے تھے، رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہسپتال کے باہر جمع ہو گئے۔ پولیس کے ابتدائی رویے پر ان کے تحفظات بدستور موجود ہیں؛ وہ مسلسل اس بات پر بضد تھے کہ یہ کوئی طبی ایمرجنسی نہیں بلکہ قتل کا معاملہ ہے۔
پولیس کے لیے اب اصل چیلنج مقتول کے آخری لمحات کا سراغ لگانا ہے۔ قریبی کاروباری مراکز سے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی جا رہی ہے، اگرچہ تحقیقاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وقت کے تعین میں ابھی بھی کچھ خلا موجود ہیں۔
کبھی مشکوک موت کے طور پر دیکھے جانے والے اس واقعے کو اب باضابطہ طور پر قتل کے زمرے میں شامل کر لیا گیا ہے۔ تفتیشی ٹیموں کو فرانزک رپورٹ کی روشنی میں کام کرنے کی ہدایت دی گئی ہے اور بدھ کی صبح تک مقدمے کے باقاعدہ اندراج کا امکان ہے۔
میر رضا علی کی موت نے ان کے حلقہ احباب میں ایک لہر دوڑا دی ہے۔ سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی آمدورفت والے علاقے میں تشدد کا یہ واقعہ کیسے پیش آیا اور کسی کو خبر تک نہ ہوئی۔ موت کی وجہ سرکاری طور پر طے ہو جانے کے بعد، پولیس پر قاتلوں کی گرفتاری کے لیے دباؤ اب اپنے عروج پر ہے۔
