لاہور کے تھانہ کاہنہ میں ایک نوجوان لڑکی کے ساتھ مبینہ زیادتی کا واقعہ پیش آیا ہے۔ سکیورٹی اور ضابطہ اخلاق کی سنگین خلاف ورزی پر پولیس کے اعلیٰ حکام نے تھانے کے تمام عملے کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق، متاثرہ لڑکی کو ایک الگ معاملے میں پوچھ گچھ کے لیے تھانے لایا گیا تھا، جہاں اس کے ساتھ زیادتی کی گئی۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پنجاب پولیس کے کردار اور رویے پر عوامی حلقوں میں پہلے ہی شدید برہمی پائی جاتی ہے۔
واقعے کے بعد علاقے میں شدید اشتعال پھیل گیا اور بدھ کی صبح مقامی افراد نے تھانے کے باہر احتجاج کیا۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ محض معطلی کافی نہیں، بلکہ ذمہ داران کو سخت ترین سزا دی جائے۔ ایک مظاہرے کے دوران شہری نے کہا کہ "ہمیں معطلیاں نہیں، سزائیں چاہئیں،” جو کہ قانونی ماہرین کا بھی دیرینہ مطالبہ ہے۔
سی سی پی او لاہور نے ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ کمیٹی یہ تعین کرے گی کہ پولیس کی تحویل میں ایک شہری کیسے غیر محفوظ ہو سکتا ہے۔ فرانزک ٹیموں نے تھانے سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں، جبکہ متاثرہ لڑکی کو طبی معائنے کے لیے محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
انسانی حقوق کے وکلاء کا کہنا ہے کہ پولیس کا عملے کو معطل کرنا ایک روایتی ردعمل ہے، جس کا مقصد محض میڈیا اور عوامی دباؤ کو کم کرنا ہوتا ہے۔ ماضی میں ایسے کئی مقدمات ابتدائی شور شرابے کے بعد سرد خانے کی نذر ہو جاتے ہیں۔
تھانے کا انتظام نئی ٹیم کے حوالے کر دیا گیا ہے، لیکن عوام اور پولیس کے درمیان خلیج مزید گہری ہو گئی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ تحقیقات کسی منطقی انجام تک پہنچیں گی یا یہ معاملہ بھی دفتری کارروائیوں کی نذر ہو جائے گا۔
