قومی احتساب بیورو (نیب) نے سال 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران 5.4 ٹریلین روپے کی ریکوری کر کے اپنی تاریخ کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ بیورو کے حکام کی جانب سے منگل کو جاری کردہ اعداد و شمار پچھلے تمام نصف سالہ ریکارڈز کو پیچھے چھوڑ گئے ہیں، جو ریاستی سطح پر مالیاتی نقصانات کے ازالے کے لیے ادارے کی نئی حکمت عملی کی عکاسی کرتے ہیں۔
ریکوری کے اس حجم سے واضح ہوتا ہے کہ نیب نے اب ہائی پروفائل سیاسی گرفتاریوں کے بجائے اثاثوں کی بازیابی پر اپنی توجہ مرکوز کر لی ہے۔ بازیاب ہونے والی رقوم کا بڑا حصہ سرکاری اداروں اور نجی کمپنیوں کے درمیان انفراسٹرکچر معاہدوں پر طویل عرصے سے جاری تنازعات کے تصفیوں سے حاصل ہوا ہے۔
بیورو کے اندرونی معاملات سے واقف ایک سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "اب ہماری توجہ کھاتوں پر ہے۔ ہم صرف سرخیوں کا پیچھا نہیں کر رہے، بلکہ اصل رقم کی واپسی کو یقینی بنا رہے ہیں۔”
یہ بھاری رقوم ایسے وقت میں قومی خزانے میں جمع ہوئی ہیں جب حکومت کو مالیاتی خسارے کے اہداف پورے کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ 5.4 ٹریلین روپے کی یہ آمد وزارت خزانہ کے لیے عارضی ہی سہی، مگر ایک بڑی راحت ثابت ہوگی۔ تاہم، ماہرین اس پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے تصفیے اکثر عدالت سے باہر خفیہ معاہدوں کے ذریعے ہوتے ہیں، جن میں شفافیت کا فقدان ہوتا ہے۔
بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق، زیادہ تر رقوم ‘رضاکارانہ واپسی’ اور ‘پلی بارگین’ کے طریقہ کار سے حاصل کی گئی ہیں۔ یہ وہ طریقہ کار ہے جس پر ماضی میں سپریم کورٹ کی جانب سے بھی تنقید کی جاتی رہی ہے۔ اگرچہ یہ طریقے طویل عدالتی کارروائی سے بچنے کا ذریعہ تو ہیں، لیکن عوام اس سے لاعلم رہتے ہیں کہ عوامی خزانے کو لوٹنے والے اصل ذمہ داران کون تھے۔
یہ اعداد و شمار اگلے ہفتے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ارکانِ اسمبلی ان ٹریلینز کے ذرائع اور تصفیوں کی تفصیلات طلب کریں گے یا نہیں۔
فی الحال حکومت کے پاس پیش کرنے کے لیے ایک ریکارڈ فگر موجود ہے۔ لیکن جب تک نیب ان تصفیوں کی شفاف تفصیلات عوام کے سامنے نہیں لاتا، تب تک ان ریکوریز پر جشن کے بجائے شکوک و شبہات کے بادل چھائے رہیں گے۔
