لاہور — وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار کو جاتی امرا میں مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف سے ملاقات کی، جس میں ملکی سیاسی صورتحال اور حکومتی امور پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب حکومت پارلیمنٹ میں آئینی ترامیم اور دیگر قانون سازی کے لیے درکار اکثریت کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں نے موجودہ سیاسی کشیدگی اور اپوزیشن کے بڑھتے ہوئے دباؤ سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا۔
حکومتی حلقوں کی جانب سے اسے معمول کی ملاقات قرار دیا گیا ہے، تاہم سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اس نشست کا اصل مقصد اتحادی جماعتوں کو ایک پیج پر رکھنا اور اہم قانون سازی کے لیے درکار نمبر پورے کرنا ہے۔ نواز شریف نے، جو پارٹی کی پالیسی سازی میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں، حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ اپوزیشن کے ساتھ محاذ آرائی کے بجائے اپنی کارکردگی پر توجہ مرکوز رکھے۔
ملاقات میں معاشی صورتحال بھی زیر بحث آئی۔ مہنگائی اور بجلی کے بھاری بلوں کے باعث عوامی سطح پر پائے جانے والے غم و غصے پر نواز شریف نے تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے وزیراعظم پر زور دیا کہ وہ معاشی اصلاحات کے ساتھ ساتھ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کریں تاکہ پارٹی کا سیاسی بیانیہ متاثر نہ ہو۔
مسلم لیگ (ن) کے ایک سینئر رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "پارٹی قیادت موجودہ سیاسی غیر یقینی صورتحال سے آگاہ ہے، اور تمام فیصلے آئندہ چند دنوں کی پارلیمانی کارروائی کو مدنظر رکھ کر کیے جا رہے ہیں۔”
دوسری جانب تحریک انصاف کی جانب سے حکومت پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ اپوزیشن کا ماننا ہے کہ حکومت عوامی مینڈیٹ کے بغیر فیصلے مسلط کر رہی ہے۔ اس سیاسی محاذ آرائی کے درمیان، شریف برادران کی یہ ملاقات حکومت کے لیے ایک اہم فیصلہ کن موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اپنی قانون سازی کے مشن میں کتنی تیزی دکھاتی ہے اور اپوزیشن کی مزاحمت کو کیسے قابو کرتی ہے۔ اس ملاقات کے بعد اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں ہلچل تیز ہو گئی ہے، تاہم کسی بھی حتمی فیصلے کا اعلان تاحال نہیں کیا گیا۔
