واشنگٹن: امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول عائد کرنے کی کوشش کرتا ہے تو تہران کے ساتھ سفارتی معاہدے کے امکانات ختم ہو جائیں گے۔
روبیو نے جاری کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے دوران کہا کہ واشنگٹن ایران کی جانب سے اس اہم آبی گزرگاہ پر تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کو کنٹرول کرنے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق ایسا اقدام غیر قانونی، خطرناک اور ناقابلِ قبول ہوگا۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ ایران اور عمان کے درمیان واقع اس تنگ سمندری راستے میں کسی بھی رکاوٹ سے تیل کی قیمتوں، بحری اخراجات اور عالمی توانائی سلامتی پر فوری اثر پڑ سکتا ہے۔
روبیو نے کہا کہ امریکا اب بھی سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے، تاہم اگر ایران آبنائے ہرمز کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرے گا تو مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بات چیت میں کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے، مگر ایران کے اندر فیصلہ سازی اور مذاکراتی فریقین کے درمیان اب بھی سنگین اختلافات موجود ہیں۔
یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیجی خطے میں بحری سلامتی سے متعلق خدشات بڑھ رہے ہیں۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر ٹول یا کنٹرول کا نظام متعارف کرانے کی اطلاعات نے توانائی منڈیوں اور عالمی حکومتوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کرنے یا نقل و حرکت محدود کرنے کی کوئی بھی کوشش بحران کو مزید بڑھا دے گی اور مذاکراتی تصفیے کے امکانات کو کمزور کرے گی۔ فی الحال سفارتی رابطے جاری ہیں، مگر روبیو کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ واشنگٹن آبنائے ہرمز کے معاملے کو تہران کے ساتھ مذاکرات میں ایک سرخ لکیر سمجھتا ہے۔
