وفاقی حکومت نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ردوبدل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ طویل عرصے سے رائج پندرہ روزہ نظرثانی کے نظام کو ختم کرکے مارکیٹ کی حرکیات سے ہم آہنگ ہونے کی جانب ایک بڑی تبدیلی ہے۔ منگل کی رات جاری کردہ اس ہدایت نامے کا مقصد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں اور روپے کی قدر میں ہونے والی تبدیلیوں کا فوری اثر مقامی سطح پر منتقل کرنا ہے۔
اس اقدام کے پیچھے بین الاقوامی مالیاتی اداروں، خاص طور پر آئی ایم ایف کا دباؤ کارفرما ہے، جس کا مطالبہ تھا کہ قیمتوں پر دی جانے والی سبسڈی ختم کی جائے اور قیمتوں کا تعین مکمل طور پر مارکیٹ کے سپرد کیا جائے۔ پندرہ روزہ نظام میں جب قیمتیں بڑھتی تھیں تو قومی خزانے پر بوجھ پڑتا تھا، اب روزانہ کی ایڈجسٹمنٹ سے حکومت اس "سیاسی اور معاشی بوجھ” سے بچنا چاہتی ہے۔
نئے گائیڈ لائنز کے تحت اوگرا ہر کاروباری دن کے اختتام پر درآمدی لاگت اور عالمی سطح پر برینٹ خام تیل کی قیمتوں کا جائزہ لے گا۔ اگر لاگت میں کوئی نمایاں تبدیلی آتی ہے، تو اس کا اطلاق اگلے 24 گھنٹوں کے اندر پٹرول پمپوں پر کر دیا جائے گا۔
پیٹرولیم ڈویژن کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "یہ مالی نظم و ضبط کا معاملہ ہے۔ پندرہ روزہ نظام میں مصنوعی بفرز بنائے جاتے تھے جن کی اب گنجائش نہیں ہے۔ روزانہ کی ایڈجسٹمنٹ اس بات کو یقینی بنائے گی کہ صارف وہی قیمت ادا کرے جو مارکیٹ میں موجود ہے، نہ کہ دو ہفتے پرانی اوسط۔”
دوسری جانب، تاجر برادری اور ٹرانسپورٹرز نے اس فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ روزانہ بدلتی قیمتوں سے ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کا تعین کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ ٹرانسپورٹ یونینز کا ماننا ہے کہ اس غیر یقینی صورتحال سے کاروباری لاگت میں اضافہ ہوگا، جس کا براہِ راست بوجھ عام آدمی پر پڑے گا۔
حکومت کا موقف ہے کہ یہ شفافیت کا عمل ہے، تاہم حقیقت یہ ہے کہ اب ریاست کے پاس عالمی سطح پر قیمتوں کے جھٹکوں کو جذب کرنے کی گنجائش ختم ہو چکی ہے۔ اب موٹرسائیکل اور گاڑی مالکان کے لیے ایندھن کی قیمتیں براہِ راست عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ سے جڑ گئی ہیں، جس کا مطلب ہے کہ اب پٹرول پمپ پر پہنچ کر ہی معلوم ہوگا کہ ٹینک بھرنے کے لیے کتنی رقم درکار ہے۔
