سام سنگ الیکٹرانکس نے آخری لمحات میں اپنی سب سے بڑی یونین کے ساتھ ایک ابتدائی معاہدہ کر کے ممکنہ ہڑتال ٹال دی، مگر کمپنی کے اندر اے آئی سے جڑے منافع کی تقسیم پر اختلاف اب بھی ختم نہیں ہوا۔ رپورٹس کے مطابق معاہدہ 21 مئی 2026 سے شروع ہونے والی مجوزہ 18 روزہ ہڑتال سے محض کچھ وقت پہلے طے پایا، اور اس میں جنوبی کوریا کے وزیرِ محنت کم ینگ-ہون کی مداخلت بھی شامل تھی۔
نئے معاہدے کے تحت سام سنگ کے سیمی کنڈکٹر ملازمین کو اوسطاً 6.2 فیصد تنخواہ اضافہ ملے گا، جبکہ بونس کے لیے آپریٹنگ منافع کا 10.5 فیصد مختص کیا جائے گا، جو موجودہ بونس نظام کے علاوہ ہوگا۔ یہی پیکیج فوری ہڑتال روکنے کے لیے کافی ثابت ہوا، لیکن یونین کے اندر بہت سے کارکن اب بھی سمجھتے ہیں کہ کمپنی نے اے آئی بوم سے حاصل ہونے والی کمائی میں ان کا حصہ محدود رکھا ہے۔
اصل جھگڑا یہیں ہے۔ یونین اس سے بڑا اور زیادہ مستقل فارمولا چاہتی تھی۔ رپورٹس کے مطابق کارکنوں کا مطالبہ تھا کہ بونس کے لیے سالانہ آپریٹنگ منافع کا 15 فیصد دیا جائے، اور کمپنی کے موجودہ 50 فیصد سالانہ تنخواہ بونس کی حد میں بھی تبدیلی کی جائے۔ کچھ مطالبات میں یہ بات بھی شامل تھی کہ کم منافع والے یونٹس کے ملازمین کو بھی کارکردگی بونس ملنا چاہیے۔
یہ تنازعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سام سنگ عالمی اے آئی چپ دوڑ میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ خاص طور پر میموری چپس، جن کی مانگ اے آئی انفراسٹرکچر کی وجہ سے تیزی سے بڑھی ہے، کمپنی کی آمدنی کے لیے نہایت اہم بن چکی ہیں۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق یہ نیا معاہدہ سام سنگ کو اپنے مقامی حریف SK Hynix کے ماڈل کے کچھ قریب لے آتا ہے، کیونکہ وہاں پہلے ہی منافع سے منسلک اسی نوعیت کا بونس ڈھانچہ موجود ہے۔
اس معاملے کی اہمیت صرف ایک کمپنی تک محدود نہیں تھی۔ ایک بڑی ہڑتال دنیا کے سب سے بڑے میموری چپ ساز ادارے میں پیداوار اور سپلائی چین دونوں کے لیے خطرہ بن سکتی تھی، جبکہ جنوبی کوریا کی برآمدی معیشت پر بھی اس کے اثرات پڑنے کا خدشہ تھا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس اور دیگر رپورٹس کے مطابق یہی وجہ تھی کہ حکومت نے مذاکرات میں نسبتاً زیادہ سرگرم کردار ادا کیا۔
مارکیٹ نے بظاہر اس سمجھوتے کو مثبت اشارہ سمجھا۔ رپورٹس کے مطابق معاہدے کی خبر کے بعد سام سنگ کے شیئرز اور کوسپی انڈیکس میں تیزی دیکھی گئی۔ مگر یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ تنازعہ مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے، کیونکہ یونین نے ہڑتال تو معطل کی ہے، لیکن حتمی منظوری کے لیے اراکین کے ووٹ ہونا باقی تھے، اور کچھ کارکن اب بھی یہ محسوس کرتے ہیں کہ اے آئی دور کی کمائی میں ان کا حصہ اتنا نہیں جتنا ہونا چاہیے تھا۔
سادہ لفظوں میں، سام سنگ نے زیادہ تنخواہ اور بڑے بونس دے کر فوری بحران ٹال دیا ہے، لیکن اصل سوال ابھی بھی زندہ ہے: اے آئی کے اس منافع بخش دور میں کمپنی کے ریکارڈ منافع سے بڑا حصہ آخر کس کو ملنا چاہیے؟
