شمال مشرقی امریکہ میں بہار کی خنکی کی جگہ اچانک شدید گرمی نے لے لی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق، خطے میں درجہ حرارت معمول سے 15 سے 20 ڈگری فارن ہائیٹ زیادہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جس سے موسم گرما کا احساس قبل از وقت شروع ہو گیا ہے۔
یہ اچانک تبدیلی محض موسم کا خوشگوار رخ نہیں، بلکہ اوہائیو ویلی سے مشرق کی جانب بڑھنے والا ‘ہیٹ ڈوم’ ہے، جس نے ایسی فضا کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے جو ابھی تک موسم سرما کے اثرات سے مکمل طور پر باہر نہیں آئی تھی۔
بوسٹن سے بالٹیمور تک کے رہائشی اس اچانک تبدیلی سے حیران ہیں۔ ایئر کنڈیشننگ سسٹم وقت سے کئی ماہ پہلے چلنے لگے ہیں، جبکہ مقامی محکمہ صحت نے ابتدائی گرمی کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیے ہیں۔ نیویارک جیسے بڑے شہروں میں جہاں انفراسٹرکچر، خاص طور پر بجلی کا نظام، موسم گرما کے دباؤ کے لیے ابھی تیار نہیں تھا، وہاں حکام کو ہنگامی بنیادوں پر نگرانی کرنی پڑ رہی ہے۔
نیشنل ویدر سروس کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس طرح کے موسمی پیٹرن اب عام ہو رہے ہیں، لیکن مئی کے آغاز میں اس شدت کی گرمی غیر معمولی ہے۔ فلاڈیلفیا اور ہارٹ فورڈ جیسے شہروں میں درجہ حرارت کے نئے ریکارڈ بننے کا امکان ہے۔ زرعی ماہرین ہڈسن ویلی کے کسانوں کے لیے فکرمند ہیں؛ یہ قبل از وقت گرمی پھل دار درختوں میں جلد شگوفے لانے کا سبب بن سکتی ہے، جس سے بعد میں آنے والی کسی بھی سرد لہر کے دوران فصلوں کے شدید متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔
اتوار تک ایک ٹھنڈے محاذ کے داخل ہونے کی توقع ہے، جس سے درجہ حرارت میں نمایاں کمی آئے گی اور موسم دوبارہ اپنی معمول کی کیفیت پر لوٹ آئے گا۔ تب تک، یہ خطہ جولائی کی جھلک دکھانے والی اس شدید گرمی کا سامنا کرے گا۔
ایک علاقائی ماہر موسمیات کا کہنا ہے کہ "ہم ایک روایتی موسمی بلاکنگ پیٹرن دیکھ رہے ہیں۔ یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ موسموں کا درمیانی دور اب غیر متوقع ہوتا جا رہا ہے اور یہ نظام اس وقت سے کہیں زیادہ توانائی رکھتا ہے جس کے ہم اس موسم میں عادی تھے۔”
درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ ہی خطے میں مقامی طوفانوں کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے، جو اکثر ایسی تیزی سے آنے والی گرمی کے بعد بنتے ہیں اور کسی بھی پرسکون دوپہر کو ہنگامی صورتحال میں بدل سکتے ہیں۔
