حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے یہ دعوے کہ لاہور اور فیصل آباد 2050 تک دنیا کے گرم ترین شہروں میں شامل ہو جائیں گے، ماہرین موسمیات اور محققین کے مطابق گمراہ کن ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث دونوں شہروں میں درجہ حرارت میں اضافہ اور شدید گرمی کی لہروں کا امکان موجود ہے، لیکن اس بات کا کوئی حتمی ثبوت نہیں کہ وہ 2050 تک دنیا کے گرم ترین شہروں کی فہرست میں شامل ہوں گے۔ اس قسم کی پیش گوئیاں اکثر محدود اعداد و شمار یا موسمیاتی ماڈلز کی سادہ تشریح پر مبنی ہوتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق مستقبل کے موسمی حالات کا انحصار کئی عوامل پر ہوتا ہے، جن میں عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج، شہری ترقی، آبادی میں اضافہ اور مقامی سطح پر اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات شامل ہیں۔ اسی لیے کئی دہائیاں پہلے کسی شہر کی درست درجہ بندی کرنا آسان نہیں اور ایسے دعوؤں کو احتیاط سے دیکھنا چاہیے۔
محققین اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے اور بڑھتا ہوا درجہ حرارت، طویل ہیٹ ویوز اور پانی کی قلت لاہور، فیصل آباد اور دیگر بڑے شہروں کے لیے سنگین چیلنجز پیدا کر سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سنسنی خیز دعوؤں پر توجہ دینے کے بجائے حکومتوں اور عوام کو گرمی سے نمٹنے کی تیاری، ماحول دوست انفراسٹرکچر، سبزہ بڑھانے اور پائیدار شہری منصوبہ بندی پر توجہ دینی چاہیے تاکہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔
