MediaHydeMediaHyde
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Font ResizerAa
MediaHydeMediaHyde
Font ResizerAa
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Follow US
© 2026 Media Hyde Network. All Rights Reserved
international

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا اسرائیل پر مغربی کنارے کے بدوؤں کی ‘نسلی صفائی’ کا الزام

Last updated: جون 11, 2026 5:10 شام
Mabruka Khan
Share
ایمنسٹی انٹرنیشنل کا اسرائیل پر مغربی کنارے کے بدوؤں کی ‘نسلی صفائی’ کا الزام
ایمنسٹی انٹرنیشنل کا اسرائیل پر مغربی کنارے کے بدوؤں کی ‘نسلی صفائی’ کا الزام
SHARE

Amnesty International نے Israel پر مقبوضہ مغربی کنارے میں بدو برادریوں کی “نسلی صفائی” کرنے کا الزام عائد کر دیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے بیان کے مطابق اسرائیلی حکام کی پالیسیوں کے نتیجے میں بدو خاندانوں کو ان کی آبائی زمینوں سے بے دخل کرنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے، جبکہ گھروں کی مسماری، زمین تک رسائی میں رکاوٹیں اور نقل مکانی پر مجبور کرنے جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ کئی بدو برادریاں بے دخلی کے خطرات اور خراب ہوتی زندگی کی صورتحال کا سامنا کر رہی ہیں، اور ایسے اقدامات بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسانی ہمدردی کے قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی حکام اس سے قبل یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ مسماری اور منتقلی کے اقدامات تعمیراتی اور منصوبہ بندی کے قوانین کے تحت کیے جاتے ہیں، اور بغیر اجازت تعمیر کی گئی عمارتوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔

یہ الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی صورتحال پر عالمی توجہ میں اضافہ ہو رہا ہے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں شہری آبادی کے تحفظ اور بین الاقوامی قوانین پر عملدرآمد کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

Share This Article
Facebook Whatsapp Whatsapp Email Copy Link Print
Previous Article تھرپارکر میں اونٹ پر مبینہ وحشیانہ تشدد تھرپارکر میں اونٹ پر مبینہ وحشیانہ تشدد
Next Article رویتِ ہلال کمیٹی کا 15 جون کو محرم الحرام کے چاند کے لیے اجلاس رویتِ ہلال کمیٹی کا 15 جون کو محرم الحرام کے چاند کے لیے اجلاس
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اشتہار

FacebookLike
XFollow
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
WhatsAppFollow
ThreadsFollow
اسحاق ڈار کا مصری اور ترک وزرائے خارجہ سے رابطہ، علاقائی کشیدگی پر تشویش اور مذاکرات پر زور
international سیاست
جون 11, 2026
گرمی کے موسم میں گھر اور خود کو ٹھنڈا رکھنے کے 6 طریقے
گرمی کے موسم میں گھر اور خود کو ٹھنڈا رکھنے کے 6 طریقے
تازہ ترین موسمیات و ماحولیات
جون 11, 2026
رویتِ ہلال کمیٹی کا 15 جون کو محرم الحرام کے چاند کے لیے اجلاس
رویتِ ہلال کمیٹی کا 15 جون کو محرم الحرام کے چاند کے لیے اجلاس
تازہ ترین موسمیات و ماحولیات
جون 11, 2026
تھرپارکر میں اونٹ پر مبینہ وحشیانہ تشدد
تھرپارکر میں اونٹ پر مبینہ وحشیانہ تشدد
تازہ ترین عدالت اور جرائم
جون 11, 2026
 لاہور اور فیصل آباد کے 2050 تک دنیا کے گرم ترین شہروں میں شامل ہونے کے دعوے گمراہ کن قرار
 لاہور اور فیصل آباد کے 2050 تک دنیا کے گرم ترین شہروں میں شامل ہونے کے دعوے گمراہ کن قرار
تازہ ترین موسمیات و ماحولیات
جون 11, 2026
دادو میں شدید گرمی کی لہر، درجہ حرارت 49 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا
دادو میں شدید گرمی کی لہر، درجہ حرارت 49 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا
تازہ ترین موسمیات و ماحولیات
جون 11, 2026

You Might Also Like

internationalWorld

جاپان کا "نانکائی ٹرف” اور بڑے زلزلے کا خوف: کیا ملک تیار ہے؟

By Ayan Ahmed
بیروت پر حملے کی دھمکی سے اسرائیل کی ممکنہ پسپائی، کشیدگی میں کمی کی امید
international

بیروت پر حملے کی دھمکی سے اسرائیل کی ممکنہ پسپائی، کشیدگی میں کمی کی امید

By Siraj Ahmed
**میکرون کا لبنان کو اسرائیل سے مذاکرات کی تیاری میں مدد دینے کا اعلان** پیرس — فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے کہا ہے کہ فرانس لبنان کو اسرائیل کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کی تیاری میں مدد دے گا۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سرحدی کشیدگی کے بعد جنگ بندی نہایت نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور سفارتی کوششیں اسے ٹوٹنے سے بچانے کی طرف مرکوز ہیں۔ یہ بات میکرون نے 21 اپریل 2026 کو پیرس میں لبنانی وزیراعظم نواف سلام سے ملاقات کے بعد کہی۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ جنگ بندی کو مضبوط کرنے اور جنوبی لبنان کی صورت حال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانا ضروری ہے۔ میکرون کا مؤقف یہ تھا کہ لبنان میں استحکام صرف فوجی دباؤ سے نہیں بلکہ سیاسی اور سفارتی پیش رفت سے ممکن ہے۔ دوسری طرف نواف سلام نے واضح کیا کہ بیروت بات چیت کے راستے کا مخالف نہیں، تاہم لبنان کی خودمختاری، اسرائیلی افواج کے انخلا اور جنگ بندی کی مکمل پاسداری بنیادی شرطیں رہیں گی۔ یوں ابتدا ہی سے یہ واضح ہے کہ مذاکرات کی راہ کھلی تو ہے، مگر آسان نہیں۔ اس پیش رفت کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان واشنگٹن میں براہِ راست بات چیت ہوئی تھی، جسے کئی دہائیوں بعد ایک غیرمعمولی سفارتی قدم قرار دیا گیا۔ اگرچہ ان مذاکرات سے کسی فوری پیش رفت کا اعلان نہیں ہوا، لیکن دونوں فریقوں کا ایک ہی میز پر آنا خود ایک اہم تبدیلی سمجھا جا رہا ہے۔ فرانس اس نئے سفارتی خلا میں اپنے لیے ایک کردار تلاش کر رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پیرس اس وقت باضابطہ مذاکراتی فریق نہیں، لیکن میکرون نے لبنان کو تکنیکی اور سفارتی سطح پر تیار کرنے کی پیشکش کی ہے۔ فرانس کے لبنان کے ساتھ تاریخی تعلقات ہیں، اور اسی بنیاد پر وہ خود کو ایک مددگار قوت کے طور پر پیش کر رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب علاقائی طاقتیں اور مغربی ممالک جنوبی لبنان کی صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم زمینی حقیقت اب بھی پریشان کن ہے۔ جنگ بندی کو مستحکم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ حالیہ مہینوں میں سرحدی جھڑپوں، راکٹ حملوں اور جوابی کارروائیوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ کسی بھی وقت حالات دوبارہ بگڑ سکتے ہیں۔ اسی لیے موجودہ سفارتی رابطوں کو امن معاہدے کی کوشش کے بجائے فوری کشیدگی کم کرنے کی مہم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ فرانس کے لیے یہ معاملہ صرف سفارت کاری تک محدود نہیں رہا۔ جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کے امن مشن سے وابستہ ایک فرانسیسی اہلکار کی حالیہ ہلاکت نے پیرس کی تشویش میں اضافہ کیا ہے۔ فرانس اور اقوام متحدہ کے مشن نے اس واقعے کی ذمہ داری حزب اللہ پر عائد کی، اگرچہ حزب اللہ نے اس الزام کو مسترد کیا۔ اس پس منظر میں میکرون نے یہ اشارہ بھی دیا کہ اگر ضرورت پڑی تو فرانس مستقبل کے کسی امن انتظام میں مدد دینے پر غور کر سکتا ہے۔ لبنانی وزیراعظم نواف سلام کے دورۂ پیرس کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ لبنان کو ممکنہ مذاکرات سے پہلے زیادہ مضبوط سیاسی اور سفارتی حمایت حاصل ہو۔ بیروت چاہتا ہے کہ کوئی بھی بات چیت ایسی نہ ہو جس میں صرف طاقت کا توازن فیصلہ کن بن جائے، بلکہ لبنان کے مفادات اور سرحدی خودمختاری کو بھی واضح تحفظ حاصل ہو۔ ادھر اسرائیل نے ابھی تک فرانس کو مرکزی ثالث کے طور پر قبول کرنے کے آثار نہیں دیے۔ بعض رپورٹس کے مطابق موجودہ رابطہ کاری میں اسرائیل زیادہ تر امریکی کردار کو ترجیح دے رہا ہے، جس کی وجہ سے فرانس کا حصہ فی الحال معاونت تک محدود دکھائی دیتا ہے، براہِ راست ثالثی تک نہیں۔ اس سارے منظرنامے میں ایک بات واضح ہے: سفارتی دروازہ پوری طرح بند نہیں، مگر خطرہ بھی ٹلا نہیں۔ میکرون کی پیشکش دراصل لبنان کو ایک ایسے مرحلے کے لیے تیار کرنے کی کوشش ہے جہاں معمولی پیش رفت بھی بڑی اہمیت اختیار کر سکتی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا یہ سفارتی کوششیں ایک پائیدار فریم ورک میں ڈھلتی ہیں یا پھر سرحدی کشیدگی دوبارہ پورے عمل کو پیچھے دھکیل دیتی ہے۔ میں اسے چاہیں تو اب **اخباری انداز میں مزید polished اردو ورژن**، **مختصر ویب اسٹوری فارمیٹ**، یا **ہیڈ لائن + سب ہیڈ + لیڈ** کی شکل میں بھی دے سکتا ہوں۔
international

میکرون کا لبنان کو اسرائیل سے مذاکرات کی تیاری میں مدد دینے کا اعلان

By Mabruka Khan
صومالی قزاق رسد کم ہونے پر اغوا کی گئی اماراتی کشتی چھوڑ کر فرار
internationalتازہ ترین

صومالی قزاق رسد کم ہونے پر اغوا کی گئی اماراتی کشتی چھوڑ کر فرار

By Ayesha Masood
MediaHyde
Facebook Twitter Youtube Rss Medium

About US

Your instant connection to breaking stories and live updates. Stay informed with our real-time coverage across politics, tech, entertainment, and more. Your reliable source for 24/7 news.

Top Categories
  • تازہ ترین
  • سیاست
  • انٹرٹینمنٹ
  • تعلیم
  • کھیل
  • مذہبی
  • میٹروپولیٹن
  • موسمیات و ماحولیات
Usefull Links
  • Contact Us
  • Disclaimer
  • Privacy Policy
  • Cookies Policy
  • Advertising Policy
  • Terms & Conditions

© 2025 Media Hyde Network. All Rights Reserved.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?