جنیوا — ایک زمانہ تھا جب جنیوا صرف سوئٹزرلینڈ کا ایک خوبصورت شہر نہیں سمجھا جاتا تھا، بلکہ اسے دنیا کی سفارت کاری کا دل کہا جاتا تھا۔ یہی وہ جگہ تھی جہاں جنگوں پر بات ہوتی تھی، امن معاہدوں کی بنیاد رکھی جاتی تھی، انسانی حقوق، تجارت، پناہ گزینوں اور صحت سے متعلق بڑے فیصلے طے پاتے تھے۔ جنیوا کی پہچان ہی یہ تھی کہ یہاں دنیا کے حریف بھی ایک ہی میز پر بیٹھ جاتے تھے۔
مگر اب وہ منظر بدلتا دکھائی دے رہا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے نظام میں فنڈنگ کم ہونے، بڑے عطیہ دہندگان کی ترجیحات بدلنے اور اخراجات گھٹانے کے دباؤ نے جنیوا میں قائم اداروں کو سخت مشکل میں ڈال دیا ہے۔ نوکریاں ختم ہو رہی ہیں، کچھ شعبے سکڑ رہے ہیں، اور یہ سوال اب سنجیدگی سے پوچھا جا رہا ہے کہ کیا جنیوا آئندہ بھی اسی طرح عالمی سفارت کاری کا مرکز رہ سکے گا جیسے ماضی میں تھا۔
حالیہ مہینوں میں صورتِ حال اتنی سنگین ہوئی کہ جنیوا میں اقوامِ متحدہ کے سیکڑوں ملازمین نے مجوزہ کٹوتیوں اور ملازمتوں کے خاتمے کے خلاف احتجاج کیا۔ یہ غیر معمولی منظر تھا، کیونکہ جنیوا کی بین الاقوامی دنیا عام طور پر اپنے بحرانوں کو خاموش دفتری زبان میں چھپا لیتی ہے۔ لیکن اب بے چینی کھل کر سامنے آ رہی ہے۔
اصل مسئلہ پیسے کا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مختلف ادارے بجٹ میں بڑی کمی کے دباؤ میں ہیں۔ انسانی حقوق کے شعبے سے لے کر صحت اور امدادی کاموں تک، کئی ادارے اخراجات کم کرنے پر مجبور ہیں۔ کچھ رپورٹس کے مطابق ہزاروں آسامیوں پر خطرہ منڈلا رہا ہے، جبکہ بعض کام نسبتاً کم خرچ شہروں کی طرف منتقل کرنے کی بات بھی ہو رہی ہے۔ اس کا مطلب صرف اتنا نہیں کہ چند دفاتر کا حجم کم ہوگا؛ اس کے اثرات جنیوا کی پوری معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔
یہ شہر صرف سفارت کاروں اور اقوامِ متحدہ کے اہلکاروں سے نہیں چلتا۔ ان اداروں کے ساتھ ہوٹل، کانفرنس سروسز، مترجمین، مقامی ٹھیکیدار، ٹرانسپورٹ، سکیورٹی اور بے شمار دوسرے شعبے جڑے ہوتے ہیں۔ جب بین الاقوامی ادارے سکڑتے ہیں تو اس کی گونج شہر کے بازار تک سنائی دیتی ہے۔
جنیوا کے لیے یہ معاملہ صرف معاشی نہیں، علامتی بھی ہے۔ اس شہر نے اپنی عالمی شناخت غیر جانب داری، امن پسندی اور بین الاقوامی مکالمے کی روایت پر بنائی تھی۔ اقوامِ متحدہ اور اس سے منسلک اداروں کی مضبوط موجودگی نے اس شناخت کو دہائیوں تک سہارا دیا۔ اب اگر یہی ادارے اپنے دفاتر چھوٹے کریں، عملہ کم کریں یا کچھ سرگرمیاں دوسری جگہوں پر منتقل کریں، تو یہ صرف انتظامی تبدیلی نہیں رہے گی؛ یہ جنیوا کے عالمی مقام میں ممکنہ دراڑ سمجھی جائے گی۔
بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی۔ دنیا کی ترجیحات بدل رہی ہیں۔ کئی مغربی حکومتیں امدادی اخراجات کم کر رہی ہیں، دفاعی بجٹ بڑھا رہی ہیں، اور کثیرالجہتی اداروں کے لیے سیاسی حمایت پہلے جیسی مضبوط نہیں رہی۔ ایسے میں جنیوا کا وہ ماڈل، جو بڑے عالمی اداروں، مسلسل ڈونر سپورٹ اور بین الاقوامی اجلاسوں پر کھڑا تھا، اب پہلے جیسا محفوظ نظر نہیں آتا۔
اس کے باوجود یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ جنیوا کی اہمیت ختم ہو گئی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے دفاتر اب بھی یہاں سرگرم ہیں، اہم اجلاس اب بھی ہوتے ہیں، اور سفارتی سطح پر جنیوا کی جگہ اب بھی غیر معمولی ہے۔ لیکن فضا بدل چکی ہے۔ پہلے سوال یہ نہیں تھا کہ جنیوا اہم ہے یا نہیں؛ یہ بات مسلم تھی۔ اب سوال یہ ہے کہ آنے والے پانچ یا دس برس میں اس کی اہمیت کی نوعیت کیا ہوگی۔
شاید اسی لیے جنیوا کی کہانی اب صرف بجٹ کٹوتی کی خبر نہیں رہی۔ یہ ایک ایسے شہر کی کہانی بنتی جا رہی ہے جس نے اپنی شناخت امن، مکالمے اور عالمی تعاون سے بنائی، مگر اب وہی ستون آہستہ آہستہ کمزور پڑتے دکھائی دے رہے ہیں۔
یہی جنیوا کا اصل المیہ ہے: شہر اب بھی موجود ہے، عمارتیں بھی، جھنڈے بھی، اجلاس بھی — مگر وہ وزن، وہ مرکزیت، وہ عالمی کشش، جس نے اسے “امن کا شہر” بنایا تھا، اب پہلے جیسی یقینی نہیں رہی۔
