کویت نے کمپنیوں کے حقیقی یا مستفیدِ فعلی مالکان کی معلومات ظاہر نہ کرنے والوں کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ خلاف ورزی کی صورت میں ایک ہزار سے 10 ہزار کویتی دینار تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ یہ اقدام وزارتِ تجارت و صنعت کی اس مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد کاروباری ملکیت کے ڈھانچے کو زیادہ شفاف بنانا اور منی لانڈرنگ کے خطرات کم کرنا ہے۔
اس معاملے کی بنیاد وزارتی قرار داد نمبر 4 برائے 2023 ہے، جس کے تحت کویت میں رجسٹرڈ قانونی اداروں پر لازم کیا گیا کہ وہ اپنے اصل یا فائدہ اٹھانے والے مالکان کا ریکارڈ مرتب کریں، اسے درست رکھیں اور ضرورت پڑنے پر متعلقہ حکام کو فراہم کریں۔ بعد میں وزارت نے 2025 میں اس فریم ورک میں ترامیم بھی کیں، جن میں قرار داد نمبر 16 اور بعد ازاں 171 شامل ہیں، جو اسی نظام کو مزید واضح اور مضبوط بنانے کے لیے جاری کی گئیں۔
وزارتِ تجارت کے مطابق “مستفیدِ فعلی” سے مراد وہ قدرتی شخص ہے جو کسی کمپنی یا قانونی ادارے پر براہِ راست یا بالواسطہ حتمی ملکیت یا مؤثر کنٹرول رکھتا ہو۔ وزارت نے نومبر 2023 میں سرکاری سہل ایپ کے ذریعے کاروباری مالکان کو نوٹس بھیجے تھے، جن میں کہا گیا تھا کہ وہ درست معلومات جمع کرائیں، خاص طور پر ایسے افراد کی تفصیلات بھی جن کی ملکیت یا کنٹرول کمپنی کے روایتی کاغذات، معاہدوں یا وزارت کے ڈیٹا بیس میں پوری طرح ظاہر نہیں ہوتا۔
قواعد کے تحت کمپنیوں کو اپنی ملکیتی معلومات میں تبدیلی کی صورت میں اسے 15 دن کے اندر اپ ڈیٹ کرنا ہوتا ہے۔ اسی طرح رجسٹریشن کے ابتدائی مرحلے میں قانونی اداروں کے لیے مقررہ مدت بھی دی گئی تھی تاکہ وہ فائدہ اٹھانے والے مالکان کا اندراج مکمل کریں۔ وزارت نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ متعلقہ تقاضے پورے نہ ہونے کی صورت میں تجارتی لائسنس کے اجرا یا تجدید میں رکاوٹ آ سکتی ہے، اس لیے یہ صرف ایک انتظامی رسمی کارروائی نہیں بلکہ براہِ راست کاروباری عمل سے جڑا معاملہ ہے۔
کویتی حکام کا کہنا ہے کہ اس مہم کے اچھے نتائج سامنے آئے ہیں۔ جون 2025 میں مقامی رپورٹوں کے مطابق وزارتِ تجارت نے بتایا کہ تقریباً 98 فیصد تجارتی ادارے مستفیدِ فعلی کی معلومات رجسٹر کرا چکے تھے۔ انہی رپورٹوں میں یہ بھی کہا گیا کہ 3,007 ادارے مقررہ مدت تک اندراج مکمل نہ کر سکے اور ان پر مجموعی طور پر تقریباً 30 لاکھ کویتی دینار کے جرمانے بنتے تھے۔
بعد کی رپورٹنگ میں یہ شرح مزید بہتر بتائی گئی۔ نومبر 2025 کی کوریج کے مطابق وزارت نے کہا کہ غیر فعال کمپنیوں کے اخراج، آگاہی مہمات اور نگرانی کے بعد مستفیدِ فعلی کے اندراج کی تعمیل 98.62 فیصد تک پہنچ گئی۔ حکام نے اس عمل کو کویت کی بین الاقوامی درجہ بندی، قومی رسک اسسمنٹ اور منی لانڈرنگ و دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف نظام کو مضبوط بنانے سے جوڑا۔
اس پوری کارروائی کا بڑا پس منظر یہ ہے کہ حقیقی ملکیت کی معلومات اب عالمی سطح پر مالی شفافیت کا اہم معیار بن چکی ہیں۔ کویت کی وزارتِ تجارت بھی اپنے سرکاری نوٹسز میں کہہ چکی ہے کہ یہ نظام مشکوک لین دین کی نشاندہی، نگرانی کے عمل کو بہتر بنانے اور ریاستی اداروں کو مؤثر معلومات فراہم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ سادہ لفظوں میں، حکومت اب صرف یاددہانی نہیں کرا رہی؛ وہ یہ پیغام دے رہی ہے کہ کمپنی کے پیچھے اصل کنٹرول کس کے پاس ہے، یہ بات ریاست سے پوشیدہ نہیں رہنی چاہیے۔
