امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ کے مذاکرات کار ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے پیر کے روز اسلام آباد پہنچیں گے، جس کے بعد ایک بار پھر پاکستان میں سفارتی سرگرمیوں کی نئی لہر متوقع ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز اور وسیع تر امریکا۔ایران کشیدگی کے باعث خطے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ مذاکرات اسلام آباد میں 11 اور 12 اپریل کو ہونے والے پہلے دور کے تسلسل میں ہوں گے۔ پہلے مرحلے میں کسی حتمی معاہدے تک تو رسائی نہیں ہو سکی تھی، تاہم دونوں فریقوں نے رابطے جاری رکھنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ پاکستان اس پورے عمل میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے اور اسلام آباد ایک بار پھر اعلیٰ سطحی سفارتی سرگرمیوں کے لیے تیار دکھائی دیتا ہے۔
ٹرمپ کے بیان کے بعد اس بات سے متعلق کافی حد تک ابہام دور ہو گیا ہے کہ اگلا دور کب ہوگا۔ اس سے قبل مختلف رپورٹس میں کہا جا رہا تھا کہ امریکی اور ایرانی وفود رواں ہفتے دوبارہ اسلام آباد آ سکتے ہیں، لیکن باضابطہ سطح پر وقت اور شیڈول واضح نہیں کیا گیا تھا۔ اب ٹرمپ کے بیان نے اس عمل کو ایک نئی سیاسی اہمیت دے دی ہے۔
یہ مذاکرات ایک نہایت کشیدہ ماحول میں ہو رہے ہیں۔ ایران آبنائے ہرمز میں دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہے، جبکہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر دباؤ اور پابندیوں کی پالیسی جاری رکھی ہے۔ اسی وجہ سے اسلام آباد میں ہونے والی یہ سفارت کاری محض ایک معمول کی ملاقات نہیں بلکہ خطے میں ممکنہ کشیدگی کو کم کرنے کی ایک اہم کوشش سمجھی جا رہی ہے۔
اس کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان اختلافات بدستور موجود ہیں۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ مذاکرات کے لیے ابھی کوئی متفقہ فریم ورک موجود نہیں اور تہران واشنگٹن کے بعض مطالبات کو حد سے زیادہ سخت قرار دیتا ہے۔ اس پس منظر میں ٹرمپ کی تصدیق اہم ضرور ہے، مگر اس سے فوری پیش رفت کی ضمانت نہیں ملتی۔
اسلام آباد میں متوقع سفارتی سرگرمیوں کے باعث سکیورٹی بھی سخت کر دی گئی ہے۔ وفاقی دارالحکومت اور راولپنڈی میں غیر ملکی وفود کی آمد کے پیشِ نظر اضافی نفری تعینات کی گئی ہے، مختلف چیک پوسٹس قائم کی گئی ہیں اور حساس مقامات کی نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔
