امریکی ریاست کیلیفورنیا میں سائنس دان ایک تشویش ناک رجحان کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں: زیادہ گرے وہیلز سان فرانسسکو بے میں داخل ہو رہی ہیں، مگر ان میں سے بہت سی واپس نہیں جا رہیں۔ نئی تحقیق اور حالیہ اموات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ کسی ایک وجہ کا نتیجہ نہیں بلکہ جہازوں سے ٹکراؤ، خوراک کی کمی، اور سمندری ماحول میں تبدیلی کے باعث وہیلز کے رویّے میں آنے والی تبدیلیوں کا مجموعہ ہے۔
اس ماہ نمایاں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق 2018 سے 2025 کے درمیان سان فرانسسکو بے میں داخل ہونے والی کم از کم 18 فیصد گرے وہیلز بعد میں وہیں مردہ پائی گئیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ اصل شرح اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ ہر مردہ وہیل تک رسائی ممکن نہیں ہوتی اور نہ ہی ہر لاش کا مکمل معائنہ ہو پاتا ہے۔ تحقیق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کئی اموات کی ایک بڑی وجہ بڑے جہازوں سے ٹکراؤ معلوم ہوتی ہے۔
سان فرانسسکو بے کی جغرافیائی ساخت بھی اس خطرے کو بڑھاتی ہے۔ وہیلز کو بے میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے کے لیے گولڈن گیٹ کے تنگ راستے سے گزرنا پڑتا ہے، جہاں تجارتی بحری جہازوں اور دوسری کشتیوں کی آمدورفت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق دھند، مصروف بحری گزرگاہیں، اور پانی میں وہیلز کا نسبتاً کم نظر آنا تصادم کے امکانات بڑھا دیتا ہے۔
تاہم سائنس دانوں کا خیال ہے کہ جہازوں سے ٹکراؤ ہی پوری کہانی نہیں۔ بڑھتے ہوئے شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ بہت سے گرے وہیل پہلے ہی کمزور حالت میں یہاں پہنچ رہے ہیں، اور غالب امکان یہ ہے کہ آرکٹک کے چرنے والے علاقوں میں بڑھتی ہوئی حدت ان کی خوراک کو متاثر کر رہی ہے۔ گزشتہ برس وفاقی محققین نے رپورٹ کیا تھا کہ 2019 سے 2023 کے غیر معمولی اموات کے واقعے کے بعد مشرقی شمالی بحرالکاہل کے گرے وہیلز کی آبادی میں کمی کا سلسلہ جاری رہا، اور موسمِ سرما 2025 میں ان کی تعداد تقریباً 13 ہزار رہی، جو 1970 کی دہائی کے بعد کم ترین سطح ہے۔
یہ کمی اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ اس سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ گرے وہیلز اب سان فرانسسکو بے میں زیادہ کیوں آ رہی ہیں۔ بعض سائنس دانوں کا خیال ہے کہ کچھ وہیلز اپنی روایتی ہجرتی راہوں سے ہٹ کر خوراک کی تلاش میں بے کے اندر آ رہی ہیں، لیکن ایسا کرتے ہوئے وہ خود کو مصروف بحری راستوں اور شہری خطرات کے سامنے لے آتی ہیں۔ یوں یہ بے ایک طرف عارضی پناہ گاہ بن سکتی ہے، تو دوسری طرف موت کا جال بھی۔
مقامی سطح پر حالیہ اعداد و شمار نے بھی اس تشویش میں اضافہ کیا ہے۔ کیلیفورنیا اکیڈمی آف سائنسز نے 2025 میں بتایا تھا کہ وسیع تر سان فرانسسکو بے ایریا میں 24 وہیلز مردہ پائی گئیں، جن میں 21 گرے وہیلز شامل تھیں، جبکہ ان میں سے 8 اموات کو مشتبہ یا ممکنہ طور پر جہازوں سے ٹکراؤ سے جوڑا گیا۔ اس سال بھی بے کے پانیوں میں مزید گرے وہیلز کی لاشیں ملنے سے مسئلہ دوبارہ توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
اب محققین فوٹو شناخت، لاشوں کے طبی معائنے، مشاہداتی ریکارڈ اور نگرانی کے دوسرے سائنسی طریقوں کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آخر کچھ وہیلز بے میں زیادہ دیر کیوں رک جاتی ہیں اور ان کی اموات کی شرح اتنی زیادہ کیوں ہے۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ زخمی وہیلز ٹکراؤ کے بعد مقامی پانیوں میں زیادہ دیر تک رہتی ہیں، جبکہ بعض پہلے ہی غذائی کمی کے باعث کمزور ہو کر پہنچتی ہیں۔ دونوں امکانات پر تحقیق جاری ہے۔
اس تحقیق کے نتیجے میں عملی حفاظتی اقدامات پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔ سائنس دان اور ماحولیاتی تنظیمیں بحری جہازوں کی رفتار کم کرنے، راستوں میں ردوبدل، جہاز رانوں کے لیے بہتر رہنمائی، اور حقیقی وقت میں وہیلز کی موجودگی کی نگرانی جیسے اقدامات کی حمایت کر رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات تصادم کم کر سکتے ہیں، اگرچہ وہ بڑے ماحولیاتی مسئلے کو مکمل طور پر حل نہیں کریں گے۔
