اسلام آباد: پاکستان نے بجلی کی بڑھتی قلت اور گیس کی کم ہوتی دستیابی کے درمیان قطر کے ساتھ ایل این جی کارگوز کی فراہمی پر رابطے تیز کر دیے ہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق حکومت کو خدشہ ہے کہ اگر درآمدی رسد معمول پر نہ آئی تو بجلی کی پیداوار مزید متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ کئی علاقوں میں لوڈشیڈنگ پہلے ہی بڑھ چکی ہے۔
صورتحال کی سنگینی اس بات سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ سرکاری اور میڈیا رپورٹس میں بجلی کے نظام کو تقریباً 3,400 میگاواٹ کے شارٹ فال کا سامنا بتایا گیا ہے۔ پاور سیکٹر کے حکام کے مطابق طلب میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، مگر آر ایل این جی کی غیر یقینی دستیابی نے گرمیوں کے آغاز پر نظام کو دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
اس بحران کی فوری وجہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور اس کے نتیجے میں ایل این جی سپلائی چین میں رکاوٹیں بتائی جا رہی ہیں۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ میں حکام نے کہا تھا کہ قطر سے آنے والی کارگو سپلائیز متاثر ہوئی ہیں، اور اگر یہ خلل برقرار رہا تو پاور سیکٹر کے لیے گیس کی دستیابی مزید کم ہو سکتی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق مارچ میں شیڈول آٹھ کارگوز میں سے صرف دو پاکستان پہنچ سکے تھے۔
حکومتی حلقوں میں اب زور اس بات پر ہے کہ پاور سیکٹر کو زیادہ گیس دی جائے تاکہ مہنگے متبادل ایندھن کے استعمال سے بچا جا سکے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق وزیرِ توانائی اویس لغاری نے خبردار کیا کہ اگر بجلی گھروں کو اضافی گیس نہ ملی تو یا تو ٹیرف میں ایندھن کی لاگت بہت بڑھ جائے گی یا بڑے پیمانے پر لوڈشیڈنگ کرنا پڑے گی۔ اسی تناظر میں رہائشی، سی این جی اور کھاد کے شعبوں سے گیس موڑنے کی تجاویز بھی زیرِ غور آئیں۔
یہ معاملہ اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ چند ماہ پہلے پاکستان کا مسئلہ بالکل الٹ تھا۔ اس وقت ملک میں آر ایل این جی کی طلب کم ہونے، بجلی کے کم استعمال اور گیس کے معاہدوں کے بوجھ کے باعث حکومت قطر سے کارگوز مؤخر یا بین الاقوامی مارکیٹ میں موڑنے کی بات کر رہی تھی۔ رپورٹس کے مطابق پاکستان نے 2026 کی کئی کارگوز کے بارے میں قطر سے رعایت یا موخر ادائیگی جیسے آپشنز پر بھی بات کی تھی۔
اب منظرنامہ بدل چکا ہے۔ موجودہ بحران نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ پاکستان کی بجلی پیداوار اب بھی درآمدی ایندھن، خاص طور پر خلیجی ایل این جی، پر کافی حد تک منحصر ہے۔ اگر قطر سے سپلائی بحال رہتی ہے تو حکومت وقتی طور پر نظام سنبھال سکتی ہے، لیکن اگر رکاوٹیں طول پکڑ گئیں تو گرمیوں میں زیادہ مہنگی بجلی، طویل لوڈشیڈنگ اور صنعتی دباؤ جیسے مسائل شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
پس منظر میں ایک اور اہم نکتہ بھی ہے: پاکستان میں شمسی توانائی کے بڑھتے استعمال نے کچھ دباؤ ضرور کم کیا ہے، مگر شام کے اوقات اور پیک ڈیمانڈ میں آر ایل این جی اب بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اسی لیے قطر کے ساتھ جاری بات چیت محض ایک تجارتی معاملہ نہیں، بلکہ آئندہ چند ہفتوں میں بجلی کے نظام کو سہارا دینے کی فوری کوشش کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
