پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے 7 مئی 2026 کو معرکۂ حق کی پہلی برسی کے موقع پر ایک سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے خلاف کسی بھی “دشمنانہ منصوبے” کا جواب “زیادہ طاقت، درستگی اور عزم” کے ساتھ دیا جائے گا۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان مئی 2025 کے اس مختصر مگر نہایت خطرناک تصادم کی پہلی برسی منا رہا ہے جس نے خطے کو ایک بڑے بحران کے قریب پہنچا دیا تھا۔
بیان کا انداز صرف یادگاری نوعیت کا نہیں تھا، بلکہ اس میں واضح دفاعی انتباہ بھی شامل تھا۔ فوجی ترجمان کے مطابق گزشتہ سال کے تصادم، جسے پاکستان معرکۂ حق کہتا ہے، نے یہ ثابت کیا کہ مستقبل میں کسی بھی جارحانہ قدم کا جواب پہلے سے زیادہ سخت انداز میں دیا جا سکتا ہے۔ یوں یہ پیغام ماضی کی یاد کے ساتھ ساتھ آئندہ کے لیے بھی ایک اشارہ تھا۔
اس پس منظر کو سمجھے بغیر اس بیان کی اہمیت مکمل طور پر واضح نہیں ہوتی۔ 22 اپریل 2025 کو بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں ایک حملے میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں زیادہ تر سیاح تھے۔ بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستان سے وابستہ شدت پسندوں پر عائد کیا، جبکہ اسلام آباد نے اس کی تردید کرتے ہوئے غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ اس کے بعد بھارت نے 7 مئی 2025 کو پاکستان کے اندر حملے کیے، جس کے جواب میں پاکستان نے بے پائلٹ جہازوں، میزائلوں اور توپ خانے کے ذریعے کارروائیاں کیں۔ آخرکار 10 مئی کو جنگ بندی عمل میں آئی، مگر دونوں جانب جانی نقصان ہو چکا تھا۔
اس سال کی برسی صرف ایک سرکاری بیان تک محدود نہیں رہی۔ حالیہ دنوں میں معرکۂ حق کی پہلی برسی کے سلسلے میں یادگاری نغمے اور دیگر تشہیری مواد بھی جاری کیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوجی قیادت اس واقعے کو قومی بیانیے کا مستقل حصہ بنانا چاہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تازہ بیان محض رسمی الفاظ نہیں بلکہ ایک بڑی علامتی اور سیاسی اہمیت بھی رکھتا ہے۔
بیان کے الفاظ خاصے دوٹوک تھے۔ یہ کہنا کہ مستقبل میں کسی بھی دشمنانہ قدم کا جواب پہلے سے زیادہ طاقت اور عزم سے دیا جائے گا، دراصل ایک ایسے وقت میں دفاعی روک تھام کو مضبوط کرنے کی کوشش معلوم ہوتا ہے جب پاکستان اور بھارت کے تعلقات اب بھی شدید تناؤ کا شکار ہیں۔ کشمیر بدستور دونوں ملکوں کے درمیان بنیادی تنازع ہے اور یہی مسئلہ علاقائی استحکام پر مسلسل اثر انداز ہو رہا ہے۔
فی الحال اس بیان میں کسی نئی عسکری پیش رفت کا اعلان نہیں کیا گیا۔ تاہم اس سے یہ ضرور واضح ہوتا ہے کہ 2025 کا تصادم پاکستان کے سرکاری دفاعی بیانیے میں اب بھی پوری شدت سے موجود ہے۔ ایک سال بعد بھی معرکۂ حق کو صرف ماضی کے واقعے کے طور پر نہیں، بلکہ مستقبل کے لیے ایک تنبیہ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
