ترکی نے کہا ہے کہ وہ اس بات پر پُرامید ہے کہ موجودہ مشرقِ وسطیٰ جنگ بندی میں توسیع ہو جائے گی، جبکہ اس کے خاتمے سے پہلے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ اے ایف پی کی 19 اپریل کی رپورٹ کے مطابق ترک حکام کو امید ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی، جو بدھ کو ختم ہونے والی ہے، مزید آگے بڑھ سکتی ہے۔
ترک صدر رجب طیب اردوان نے اس سے پہلے کہا تھا کہ انقرہ جنگ بندی میں توسیع، کشیدگی میں کمی، اور مذاکرات کے تسلسل کے لیے سرگرم ہے۔ 15 اپریل کی رائٹرز رپورٹ کے مطابق ترکی امریکا، ایران اور ثالث پاکستان کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انقرہ خود کو خطے میں ایک اہم سفارتی کردار کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
ترکی کی یہ امید اس خیال پر مبنی ہے کہ تمام مشکلات کے باوجود دونوں فریق سفارت کاری کو مکمل طور پر ترک نہیں کرنا چاہتے۔ ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے بھی کہا تھا کہ ان کے خیال میں ایران اور امریکا جنگ بندی کے معاملے میں سنجیدہ ہیں، اگرچہ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے بعض مذاکرات میں رکاوٹیں سامنے آئیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ترکی موجودہ جنگ بندی کو ایک عارضی موقع سمجھتا ہے جسے زیادہ پائیدار سمجھوتے میں بدلا جا سکتا ہے۔
تاہم پس منظر اب بھی نہایت حساس ہے۔ جنگ بندی کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں، جبکہ ثالث ممالک فریقین کے درمیان باقی اختلافات کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دوسری طرف آبنائے ہرمز کے گرد کشیدگی، جہاز رانی سے متعلق خدشات، اور تہران کی طرف سے ملنے والے متضاد اشارے بھی اس سفارتی عمل پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔
یعنی اس خبر کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ ترکی اب بھی جنگ بندی میں توسیع کے امکانات روشن سمجھتا ہے، مگر یہ امید اسی صورت میں حقیقت بن سکتی ہے جب جاری سفارتی کوششیں موجودہ سیاسی اور سلامتی کے اختلافات کو وقت پر کم کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔
