اسلام آباد: ملک کے بیشتر علاقوں میں جون سے اگست 2026 کے دوران معمول سے کم بارشوں اور معمول سے زیادہ درجہ حرارت کا امکان ہے، موسمیاتی ماہرین کی جانب سے جاری کردہ تازہ موسمی جائزے میں یہ پیش گوئی کی گئی ہے۔
موسمیاتی رپورٹ کے مطابق گرمی کی شدت میں اضافے اور بارشوں میں کمی کے باعث ملک کے مختلف حصوں میں ہیٹ ویو جیسی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ موجود ہے۔ ماہرین نے متعلقہ اداروں، کسانوں اور عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور موسمی صورتحال پر گہری نظر رکھنے کا مشورہ دیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک کے بیشتر علاقوں میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کا امکان ہے جبکہ جنوبی اور وسطی علاقوں میں گرمی کی شدت نسبتاً زیادہ محسوس کی جا سکتی ہے۔ دن کے اوقات میں درجہ حرارت معمول سے نمایاں حد تک بڑھ سکتا ہے جس سے پانی کے ذخائر، زرعی شعبے، توانائی کی طلب اور صحت عامہ کے نظام پر اضافی دباؤ پڑنے کا امکان ہے۔
موسمی جائزے کے مطابق جون سے اگست کے دوران مجموعی طور پر بارشوں کی مقدار معمول سے کم رہنے کی توقع ہے، تاہم مون سون کے اثرات کے تحت بعض مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش اور مقامی سطح پر شدید بارش کے واقعات بھی پیش آ سکتے ہیں۔ اس کے باوجود مجموعی بارشیں طویل المدتی اوسط سے کم رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق متوقع خشک اور گرم موسم زرعی شعبے کے لیے اہم چیلنجز پیدا کر سکتا ہے، خصوصاً ایسی فصلوں کے لیے جو بروقت بارشوں اور مناسب نمی پر انحصار کرتی ہیں۔ کسانوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ پانی کے مؤثر استعمال کو یقینی بنائیں، جدید آبپاشی طریقوں کو اپنائیں اور موسمی پیش گوئیوں سے مسلسل آگاہ رہیں۔
پانی کے انتظام سے متعلق اداروں کو بھی ممکنہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ کم بارشوں اور زیادہ درجہ حرارت کے باعث آبی ذخائر میں پانی کی سطح متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ماہرین نے پانی کے ضیاع کو روکنے اور وسائل کے بہتر انتظام پر زور دیا ہے تاکہ ممکنہ قلت کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔
صحت کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل بلند درجہ حرارت ہیٹ اسٹروک اور گرمی سے متعلق دیگر بیماریوں کے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے۔ خاص طور پر بچے، بزرگ افراد، کھلے آسمان تلے کام کرنے والے مزدور اور مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ پانی پئیں، دوپہر کے اوقات میں غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں اور سرکاری موسمی ہدایات پر عمل کریں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ممکنہ موسمی صورتحال کے پیش نظر ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں اور مقامی انتظامیہ کو پیشگی تیاریوں کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ شدید گرمی، خشک سالی نما حالات اور دیگر موسمی چیلنجز سے بروقت نمٹا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات زیادہ واضح ہوئے ہیں، جن کے نتیجے میں شدید گرمی کی لہریں، غیر معمولی بارشیں، سیلاب اور موسم کے بدلتے رجحانات زیادہ دیکھنے میں آئے ہیں۔ ان کے مطابق مؤثر منصوبہ بندی، جدید موسمی پیش گوئیوں اور عوامی آگاہی کے ذریعے ان چیلنجز کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
حکام نے عوام، کسانوں اور متعلقہ شعبوں سے وابستہ افراد پر زور دیا ہے کہ وہ موسم سے متعلق سرکاری اپ ڈیٹس اور انتباہات پر مسلسل نظر رکھیں۔ اگرچہ مجموعی طور پر گرم اور نسبتاً خشک موسم کی پیش گوئی کی گئی ہے، تاہم مختلف علاقوں میں مقامی موسمی نظاموں کے باعث صورتحال میں تبدیلی بھی آ سکتی ہے۔
