پیرس — فرانس میں جاری شدید گرمی کی لہر نے جہاں معمولاتِ زندگی کو متاثر کیا ہے، وہیں پانی میں ڈوبنے کے واقعات میں بھی تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، موسمِ گرما کے آغاز سے اب تک 300 سے زائد افراد پانی کی نذر ہو چکے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں میں یہ تیزی غیر معمولی گرمی کے دوران دیکھی گئی ہے۔ درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ ہی لوگ بڑی تعداد میں ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے دریاؤں، جھیلوں اور غیر محفوظ ساحلوں کا رخ کر رہے ہیں، جہاں اکثر مقامات پر لائف گارڈز موجود نہیں ہوتے۔
ساحلی علاقوں میں تعینات ایک تجربہ کار لائف گارڈ، مارک لیفیور کا کہنا ہے کہ "گرمی لوگوں کو لاپرواہ بنا دیتی ہے۔ وہ کسی دریا یا جھیل کو دیکھ کر یہ بھول جاتے ہیں کہ پانی کے بہاؤ اور درجہ حرارت کا فرق ان کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔”
فرانسیسی ہیلتھ ایجنسی، ‘سانتے پبلک فرانس’ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، زیادہ تر حادثات ان مقامات پر پیش آئے جہاں تیراکی کی نگرانی کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ ماہرینِ صحت کے مطابق، شدید گرمی میں اچانک ٹھنڈے پانی میں کودنا انسانی جسم کے لیے ‘کولڈ واٹر شاک’ کا باعث بن سکتا ہے، جس سے سانس لینے میں دشواری اور گھبراہٹ جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں، اور انسان چند لمحوں میں ڈوب سکتا ہے۔
حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر الرٹ جاری کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ صرف انہی مقامات پر تیراکی کریں جہاں لائف گارڈز موجود ہوں۔ مقامی انتظامیہ نے دریاؤں اور خطرناک آبی ذخائر کے قریب گشت بڑھا دی ہے، لیکن گرمی کی شدت کے پیشِ نظر شہریوں کی بڑی تعداد اب بھی ان پابندیوں کو نظر انداز کر رہی ہے۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ گرمی کی یہ لہر آئندہ چند روز تک جاری رہ سکتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر عوام نے احتیاطی تدابیر اختیار نہ کیں تو یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔ فی الحال، وزارتِ داخلہ کی جانب سے سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ غیر محفوظ آبی مقامات سے دور رہا جائے، کیونکہ ایک لمحے کی غفلت زندگی بھر کا پچھتاوا بن سکتی ہے۔
