امریکی ریاست گوام کو اس وقت حالیہ تاریخ کے سب سے بڑے قدرتی خطرے کا سامنا ہے، جہاں کیٹیگری 5 کا انتہائی طاقتور سمندری طوفان ‘ماوار’ براہ راست جزیرے سے ٹکرانے والا ہے۔ ماہرینِ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ یہ طوفان اپنے ساتھ جان لیوا ہوائیں اور سمندری لہروں کا وہ ریلا لا رہا ہے جو جزیرے کے بنیادی ڈھانچے کو ملیا میٹ کر سکتا ہے۔
گورنر لو لیون گوریرو نے نشیبی اور ساحلی علاقوں میں رہنے والے شہریوں کو فوری طور پر گھر خالی کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ 150 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں کے ساتھ یہ طوفان گزشتہ دو دہائیوں میں اس علاقے سے ٹکرانے والا سب سے ہولناک طوفان ثابت ہو سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات نے ‘انتہائی خطرناک ہواؤں’ کی وارننگ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو تاکید کی ہے کہ وہ کھڑکیوں سے دور رہیں اور محفوظ مقامات پر پناہ لیں۔ توقع ہے کہ طوفان کا مرکز بدھ کی رات یا جمعرات کی صبح جزیرے کے شمالی حصے سے گزرے گا، جس کے دوران تباہی کا سب سے زیادہ خدشہ ہے۔
جزیرے پر قائم ہنگامی پناہ گاہیں پہلے ہی بھر چکی ہیں۔ بجلی کی فراہمی کے اداروں نے وارننگ دی ہے کہ طوفان کے دوران بجلی کا نظام مکمل طور پر معطل ہو سکتا ہے اور اس کی بحالی میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ امریکی فوج نے اپنے بحری جہازوں کو بندرگاہ سے نکال کر کھلے سمندر میں منتقل کر دیا ہے تاکہ انہیں ممکنہ نقصان سے بچایا جا سکے۔
یہ محض ہواؤں کا طوفان نہیں ہے؛ ‘ماوار’ اپنے ساتھ 25 انچ تک بارش لا سکتا ہے، جس سے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور شہری علاقوں میں اچانک سیلاب کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ گوام کا جغرافیہ ایسا ہے کہ ایک بار طوفان کی بیرونی پٹی پہنچ جائے تو شہریوں کے پاس نقل مکانی کے لیے کوئی راستہ باقی نہیں بچتا۔
ماہرین کے مطابق اس طوفان نے ‘ریپڈ انٹینسفیکیشن’ یعنی انتہائی تیزی سے اپنی شدت میں اضافہ کیا، جس نے امدادی اداروں کو تیاریوں کے لیے بہت کم وقت دیا۔
طوفان گزرنے کے بعد بھی خطرہ ٹلے گا نہیں۔ بجلی کی تاروں کا ٹوٹنا، سڑکوں کی بندش اور گھروں میں سیلابی پانی کی موجودگی بحالی کے کاموں کو ہفتوں تک طویل کر سکتی ہے۔ فی الحال پورا جزیرہ سہمے ہوئے انداز میں قدرت کے اس قہر کے گزرنے کا انتظار کر رہا ہے۔
