عمران خان اس وقت تک جیل سے باہر نہیں آ سکیں گے جب تک پی ٹی آئی قیادت اور مقتدر حلقوں کے درمیان کوئی باضابطہ مفاہمت طے نہیں پا جاتی۔ یہ کہنا ہے پاکستان مسلم لیگ (ضیاء) کے سربراہ اعجاز الحق کا، جن کے مطابق سابق وزیراعظم کے خلاف جاری عدالتی کارروائیاں پسِ پشت ہیں اور اصل فیصلہ بند کمروں میں ہونے والی سیاسی سودے بازی سے ہوگا۔
اعجاز الحق نے ایک حالیہ ٹی وی انٹرویو میں اس تاثر کو مسترد کر دیا کہ عدلیہ اکیلے خان صاحب کی رہائی کا راستہ ہموار کر سکتی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ سائفر سے لے کر القادر ٹرسٹ تک کے مقدمات محض ایک بڑے سیاسی کھیل کا حصہ ہیں، جن کا حل کسی قانونی نکتے سے زیادہ ایک "ڈیل” کی مرہونِ منت ہے۔
تجزیہ کاروں کے نزدیک یہ بیان اس بڑھتی ہوئی سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ عمران خان کی قید ایک قانونی مسئلہ نہیں بلکہ سیاسی تعطل ہے۔ اگرچہ پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم مختلف عدالتوں میں ضمانت اور بریت کے لیے کوشاں ہے، مگر سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج ہی رہائی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
اعجاز الحق نے اس بات پر روشنی نہیں ڈالی کہ اس "ڈیل” میں کون سے فریق شامل ہوں گے یا اس کی شرائط کیا ہو سکتی ہیں۔ تاہم، ان کے الفاظ ایک تلخ حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں: موجودہ سیاسی ماحول میں خان صاحب کو ملنے والی قانونی ریلیف اکثر نئے مقدمات یا انتظامی رکاوٹوں کی نذر ہو جاتی ہے۔
دوسری جانب، تحریک انصاف کا موقف بدستور برقرار ہے۔ پارٹی قیادت کا دعویٰ ہے کہ عمران خان ایک سیاسی قیدی ہیں اور ان کی قید کا مقصد پارٹی کے عوامی حمایت کے ووٹ بینک کو ختم کرنا ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنما عوامی سطح پر کسی بھی "ڈیل” کو مسترد کرتے ہوئے اپنی جدوجہد کو آئین کی بالادستی کا نام دیتے ہیں۔
حکومتی حلقوں کا اصرار ہے کہ مقدمات قانونی نوعیت کے ہیں اور عدلیہ کو اپنے کام میں مکمل آزادی حاصل ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ اور دیگر عدالتوں میں جاری قانونی جنگ کے دوران، اعجاز الحق کا یہ تجزیہ اس گہرے شکوک و شبہات کی عکاسی کرتا ہے جو عدالتی کارروائیوں کی شفافیت پر اٹھائے جا رہے ہیں۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا پسِ پردہ کوئی سمجھوتہ ہوتا ہے یا قانونی عمل اپنی طویل اور پیچیدہ ڈگر پر چلتا رہے گا، کیونکہ خان صاحب کا مستقبل فی الحال ایک ایسے سیاسی موسم سے جڑا ہے جس کے بدلنے کے آثار کم ہی نظر آتے ہیں۔
