صدر آصف علی زرداری نے بینکنگ محتسب کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے خدمات کے حوالے سے عوامی آگاہی مہم کو مزید موثر بنائیں۔ مقصد یہ ہے کہ بینک صارفین کو ان کے حقوق اور تنازعات کے حل کے لیے دستیاب فورم تک رسائی میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔
ایوانِ صدر میں ہونے والی بریفنگ کے دوران صدر زرداری نے واضح کیا کہ عام آدمی کو مالیاتی اداروں کے ساتھ پیش آنے والے مسائل کے حل کے لیے ایک مضبوط اور قابلِ رسائی سہارا درکار ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ بہت سے صارفین اب بھی اس حقیقت سے ناواقف ہیں کہ بینکوں کی جانب سے غیر قانونی کٹوتیوں یا اکاؤنٹ کے معاملات میں بدانتظامی پر شکایت درج کرانے کے لیے ایک آزاد ادارہ موجود ہے۔
فی الحال، بینکنگ سیکٹر میں شکایات کا تناسب بڑھ رہا ہے۔ صارفین اکثر بینکوں کے اندرونی شکایتی سیلز کے چکر لگا کر تھک جاتے ہیں، جہاں معاملات کو طول دے کر حل کو التواء میں ڈالا جاتا ہے۔ صدر کی یہ ہدایت اسی بیوروکریٹک پیچیدگی کو ختم کرنے کی ایک کوشش ہے۔
صدر زرداری نے زور دیا کہ محتسب کا ادارہ محض شکایات سننے والا مرکز نہ بنے بلکہ فعال ہو کر عوام تک پہنچے۔ اس میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا استعمال اور دور دراز علاقوں تک رسائی شامل ہے تاکہ وہ لوگ بھی اپنی شکایت درج کروا سکیں جنہیں قانونی پیچیدگیوں کی سمجھ کم ہے۔
بینکنگ محتسب کے لیے یہ ایک نئی ذمہ داری ہے۔ اب اس ادارے کو صرف فیصلے کرنے والی باڈی کے بجائے ایک عوامی وکیل کا کردار ادا کرنا ہوگا۔
یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ یہ ہدایات بینکنگ فراڈ میں کمی لانے میں کتنی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ تاہم، ایوانِ صدر کے اس اقدام نے بینکوں پر یہ دباؤ ضرور بڑھا دیا ہے کہ وہ اپنے صارفین کے ساتھ رویہ بہتر بنائیں، بصورتِ دیگر انہیں ایک سخت اور تیز رفتار احتسابی عمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
