ملک بھر میں فروخت ہونے والے بنسپتی گھی کے 26 معروف برانڈز لیبارٹری ٹیسٹ میں ناکام ہو گئے ہیں۔ ان برانڈز میں ٹرانس فیٹی ایسڈز کی مقدار قومی فوڈ اتھارٹی کے مقرر کردہ حفاظتی معیارات سے کہیں زیادہ پائی گئی ہے، جو دل کے امراض میں مبتلا افراد کے لیے ایک تشویشناک انکشاف ہے۔
یہ نتائج مارکیٹ سے لیے گئے بے ترتیب نمونوں کی جانچ کے بعد سامنے آئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان مصنوعات میں استعمال ہونے والے ہائیڈروجنیٹڈ آئل کا معیار انتہائی ناقص ہے، جو براہِ راست انسانی صحت کے لیے خطرہ ہے۔
ٹرانس فیٹس کو طبی دنیا میں ‘خاموش قاتل’ سمجھا جاتا ہے۔ یہ جسم میں مضر کولیسٹرول کو بڑھاتے ہیں اور اچھے کولیسٹرول کو کم کرتے ہیں۔ ماہرِ امراضِ قلب ڈاکٹروں کے مطابق، ان چکنائیوں کا مسلسل استعمال دل کی شریانوں کو بند کرنے، فالج اور ذیابیطس جیسی بیماریوں کا بنیادی سبب بنتا ہے۔
ایک فوڈ سیفٹی ماہر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "کچھ نمونوں میں ٹرانس فیٹس کی مقدار مقررہ حد سے تین گنا زیادہ تھی۔ یہ صرف معیار کی خلاف ورزی نہیں، بلکہ عوامی صحت کے ساتھ کھلواڑ ہے۔”
حیران کن بات یہ ہے کہ مارکیٹ میں ‘پریمیم’ اور ‘خالص’ کے دعوے کے ساتھ فروخت ہونے والے کئی مہنگے برانڈز بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ کمپنیاں اپنے منافع کے مارجن کو برقرار رکھنے کے لیے سستی اور کیمیائی عمل سے گزری ہوئی چکنائیوں کا استعمال کر رہی ہیں، جس کا خمیازہ عام صارف بھگت رہا ہے۔
فوڈ اتھارٹی نے متعلقہ کمپنیوں کو نوٹس جاری کر کے ناقص معیار کے حامل بیچز کو فوری طور پر مارکیٹ سے ہٹانے کا حکم دیا ہے۔ تاہم، ماضی میں ایسی کارروائیاں صرف کاغذی حد تک محدود رہی ہیں۔ کمپنیاں اکثر نوٹس ملنے کے بعد پیکنگ تبدیل کر کے وہی ناقص مال دوبارہ مارکیٹ میں اتار دیتی ہیں۔
پاکستان کے عام کچن میں بنسپتی گھی ایک بنیادی جزو ہے۔ جب تک حکومت سخت جرمانوں اور لائسنس منسوخی جیسے اقدامات نہیں کرتی، تب تک ان برانڈز کا استعمال جاری رہے گا۔ فی الحال، ان 26 برانڈز کی فہرست پر کام جاری ہے تاکہ صارفین کو آگاہ کیا جا سکے کہ ان کی صحت کس حد تک خطرے میں ہے۔
جب تک متعلقہ ادارے عملی کارروائی نہیں کرتے، ماہرین کا مشورہ ہے کہ شہری گھی خریدتے وقت پیکنگ پر درج اجزاء کو بغور پڑھیں اور غیر تصدیق شدہ کمپنیوں کی مصنوعات سے گریز کریں۔
